امریکا کی جانب سے ریڈار تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے کویت اور بحرین پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
امریکی اور خلیجی حکام کے مطابق ایران نے سات بیلسٹک میزائل فائر کیے، جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔
کویتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ سات بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگا کر مؤثر جواب دیا گیا، جبکہ بحرینی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے تین ایرانی میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ بحرین اور کویت نے حملوں کو اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
کویتی وزارت دفاع نے ایرانی کارروائی کو کھلی جارحیت اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ سعودی عرب نے بحرین اور کویت پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو سے زائد ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا گیا اور بعد ازاں ایرانی ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ڈرونز بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے خطرہ تھے۔
ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج ایرانی جارحیت کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ خطے میں سیکیورٹی خدشات کے باعث صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
