ناسا نے مریخ کے گرد گردش کرنے والے اپنے میون خلائی جہاز کو چھ ماہ تک رابطہ منقطع رہنے کے بعد مردہ قرار دے دیا ہے، جس کے ساتھ ایک دہائی پر محیط مشن اختتام پذیر ہو گیا۔
میون خلائی جہاز 2013 میں مریخ کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تاہم دسمبر کے اوائل میں مریخ کے پیچھے جانے کے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
ناسا کے مطابق دستیاب ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ خلائی جہاز تیزی سے گھومنے لگا تھا، جس کے باعث اس کا مدار متاثر ہوا اور بیٹریاں ختم ہو گئیں۔
منصوبہ جاتی سربراہ مائیک مورو نے کہا کہ مشن کے خاتمے پر ٹیم کو ایسے محسوس ہوا جیسے کسی اپنے کو کھو دیا ہو۔
اس سال ناسا کی جانب سے قائم کردہ جائزہ بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ خلائی جہاز کو بحال کرنا ممکن نہیں، اور اب یہ اگلے 50 سے 100 سال تک مدار میں رہنے کے بعد مریخ پر گر جائے گا۔
میون مشن نے نہ صرف مریخ کے ماحول اور موسم کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں بلکہ اس نے کیوریوسٹی روور اور پرسویرنس روور سے ڈیٹا زمین تک پہنچانے میں بھی مدد دی۔
ناسا حکام کے مطابق مریخ کے گرد موجود دیگر چار سیٹلائٹس — دو امریکی اور دو یورپی — اب اس کمی کو پورا کریں گے، جس سے زمینی مشنز پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
مرکزی سائنسدان شینن کری نے کہا کہ اگرچہ ٹیم اس نقصان پر افسردہ ہے، لیکن گزشتہ دس برس میں حاصل ہونے والی سائنسی کامیابیوں پر فخر بھی ہے۔
