وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان گندم کی دستیابی اور سپلائی سے متعلق مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں گندم کے موجودہ ذخائر اور آئندہ ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر فوری طور پر صوبوں کی ضروریات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے تاکہ سپلائی کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
🚨 Pakistan is reportedly planning to import 1 million metric tons of wheat.
Market sources indicate that the Trading Corporation of Pakistan (TCP) may issue an international import tender within the next 15 days.
A key development to watch for global wheat markets.#Wheat pic.twitter.com/hvT77KIOLC
— PAKCOMMODITIES (@pakcommodities1) July 24, 2026
وزارت کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبوں کی مجموعی ضرورت پاسکو کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے، جس کے پیش نظر فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملکی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں قیمتوں اور سپلائی کے استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب ترجمان محکمہ فوڈ سیفٹی پنجاب نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں فلور ملز معمول کے مطابق فعال ہیں اور گندم کی پسائی کا عمل جاری ہے۔ترجمان کے مطابق پنجاب بھر میں 10 کلوگرام آٹے کے 3 لاکھ 64 ہزار جبکہ 20 کلوگرام آٹے کے ایک لاکھ 33 ہزار تھیلے فراہم کیے گئے ہیں۔
اپنی چھت، محفوظ چھت پروگرام کا آغاز، دس لاکھ تک بلاسود قرضہ حاصل کرنے کا طریقہ
لاہور میں 10 کلوگرام آٹے کے 7 لاکھ 86 ہزار 400 تھیلے 1100 روپے فی تھیلہ کے حساب سے مارکیٹ میں سپلائی کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ فوڈ سیفٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہریوں کو آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ سپلائی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
