امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ بیجنگ میں حالیہ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ چین کسی بھی صورت ایران کو ہتھیار فراہم یا فروخت نہیں کرے گا، اور یہ بات چینی کمپنیوں پر بھی لاگو ہوگی۔
President Xi, at our recent meeting in Beijing, China, told me that he would not, under any circumstances, give or sell Weapons to the Islamic Republic of Iran — And that statement included Chinese Companies. Considering our relationship, I take him at his word and, besides, l am… pic.twitter.com/zjB1ECXahf
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) July 24, 2026
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ چینی صدر کے بیان پر یقین کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چین کے لیے بھی اہم اقدامات کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی انہیں یقین دلایا ہے کہ روس ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق پیوٹن سمجھتے ہیں کہ امریکا یوکرین کو براہِ راست ہتھیار فروخت نہیں کر رہا بلکہ نیٹو ممالک کو ہتھیار فراہم کرتا ہے، اور ان ہتھیاروں کی تقسیم کا طریقہ کار امریکا کے علم میں نہیں ہوتا۔
پاسداران انقلاب کا عرب ممالک کے شہریوں کو امریکی اڈوں سے دور رہنے کا انتباہ
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے جن دو بڑے ممالک کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے، ان کے خیال میں وہ اس معاملے میں شامل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چین یا روس ایران کو ہتھیار فراہم کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے نقصان دہ ہوگا اور ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کو امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی اور بہت جلد اس پر بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین ایک بار پھر امریکی کمپنیوں کو براہ راست نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین نے ایپل پر بلاجواز 15 ارب ڈالر، میٹا پر 3 ارب ڈالر اور ایمازون پر 2.5 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ یورپی یونین نے گوگل پر بھی بغیر کسی وضاحت کے ایک ارب ڈالر جرمانہ کیا، جبکہ گوگل پر مجموعی جرمانوں کی مالیت 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے یورپی یونین کو تمام جرمانے واپس لینے کا انتباہ دیا ہے، بصورت دیگر امریکا یورپی یونین کے خلاف سیکشن 301 کے تحت فوری تحقیقات کا آغاز کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا اور امریکا اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
