عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کاروباری سرگرمیوں کے دوران امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کے ستمبر میں ترسیل کے معاہدے 2.28ڈالر(2.47فیصد) کی کمی سے 89.91ڈالر فی بیرل اور برینٹ کروڈ کے ستمبرمیں ترسیل کے سودے 2.80 ڈالر(2.78فیصد) کی کمی سے 97.89ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔
واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اثر پاکستان میں بھی پڑتا ہے ، مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردو بدل کیا جا رہا ہے۔
BREAKING: Crude oil falls below $88/barrel, down -5.5% over the last 20 hours. pic.twitter.com/jE1qwscMLL
— Hedgeye (@Hedgeye) July 24, 2026
بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی معیشت میں مہنگائی کے خدشات ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں، جس کی بڑی وجوہات میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی پابندیاں اور نئے ٹیرف اقدامات شامل ہیں۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق توانائی کی بڑھتی قیمتیں، امریکا کی جانب سے مزید درآمدی محصولات اور عالمی سطح پر بڑھتی سرمایہ کاری نے قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں کا 100 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچنا عالمی سپلائی چینز کے اخراجات بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات ایندھن، ٹرانسپورٹ اور مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مرکزی بینک مہنگائی میں کمی کے امکانات کا جائزہ لے رہے تھے، تاہم توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور تجارتی اقدامات نے دوبارہ پالیسی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
اپنی چھت، محفوظ چھت پروگرام کا آغاز، دس لاکھ تک بلاسود قرضہ حاصل کرنے کا طریقہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں افراطِ زر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شرح سود سے متعلق فیصلے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق مہنگے تیل اور اضافی ٹیرف کا امتزاج کاروباری لاگت میں اضافہ کر سکتا ہے، جس کا اثر صارفین تک منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
