سینیٹ قائمہ کمیٹی نے صوبوں کو منتقل وفاقی محکموں کی دوبارہ بحالی کو آئینی خلاف ورزی قرار دے دیا ۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ضمیر گھمرو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سینیٹر پونجو بھیل اور سینیٹر جان محمد بلیڈی سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں اٹھارویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد اور صوبوں کو منتقل کیے گئے اختیارات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتوں کی دوبارہ بحالی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا آئینی پہلوؤں سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ اجلاس میں اٹھارویں ترمیم کے تحت منتقل کی گئی 17 وزارتوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ صوبوں کو منتقل کیے گئے وفاقی محکموں کی دوبارہ بحالی آئین کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے وفاقی وزارتوں کی تعداد میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی انتظامی ڈھانچے کو آئین کے مطابق ازسرنو ترتیب دینے پر زور دیا۔
قائمہ کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کو غیر آئینی طور پر قائم کی گئی وزارتوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کی، جبکہ صوبائی امور سے متعلق وفاقی وزارتوں کے اخراجات کم کرنے کی تجویز بھی دی۔ سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ وفاقی اخراجات محدود کرکے قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں کونسل آف کامن انٹرسٹس کے مستقل سیکریٹریٹ کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں میں نئی تقرریوں سے گریز کی ہدایت کی گئی۔ کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے گزشتہ تقرریوں کی تمام تفصیلات دو ہفتوں میں طلب کر لیں۔
کمیٹی نے تیل و گیس کی آمدنی میں صوبوں کے حصے کا بھی جائزہ لیا اور گزشتہ 16 برسوں کے دوران صوبوں کو کی جانے والی ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔
اسکائی 47 منصوبہ ملک کو ناقابل تسخیر سیکیورٹی فراہم کرے گا، وزیراعظم
اجلاس میں مزار قائد کے لیے مختص فنڈز کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مزار قائد کی ترقی و دیکھ بھال سے متعلق ماہانہ رپورٹ طلب کی گئی۔ علاوہ ازیں وفاقی سیکریٹریز کی مدتِ تعیناتی کی مکمل فہرست فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
قائمہ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئین کے مطابق صوبائی اختیارات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور اٹھارویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
