اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے توانائی کے شعبے کو ٹیکس وصولی کے اضافی ذریعے کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ جس کے باعث صارفین کے بجلی بلوں میں مختلف مدات میں مزید ٹیکس شامل کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بجلی کے بلوں میں مجموعی طور پر 6 مختلف اقسام کے ٹیکس شامل ہیں۔ جن میں 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس بھی شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ان ٹیکسز کے ذریعے سالانہ 900 ارب روپے سے زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ٹیکس قرار دیئے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ صارفین سے بجلی کے بلوں میں تقریباً 9 روپے فی یونٹ تک اضافی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ جس سے گھریلو اور صنعتی دونوں شعبوں پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی رجسٹریشن درخواست مسترد
ماہرین کے مطابق بجلی پر عائد مختلف ٹیکسز نہ صرف عوام کے لیے بجلی مہنگی کر رہے ہیں۔ بلکہ صنعتی لاگت میں اضافے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔
