محکمہ موسمیات نے آج سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کر دی۔
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق آج سے 4 مئی تک ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں آندھی اور بارش کا امکان ہے جبکہ بیشتر علاقوں میں 5 مئی تک مغربی ہواؤں کا سلسلہ برقرار رہے گا۔ اسلام آباد میں وقفے وقفے سے آندھی اور بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی بارش متوقع ہے جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی طرح سکھر، لاڑکانہ، دادو اور جیکب آباد میں آج اور کل بارش کا امکان ہے۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بالائی اور وسطی اضلاع میں02 مئی سے 04 مئی کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ کے بالائی اضلاع چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بونیر، مالاکنڈ، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بارش اور ژالہ باری متوقع ہے،پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، کوہاٹ، کرم، اورکزئی، خیبر، باجوڑ، مہمند، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان اور ٹانک میں بھی تیز بارش اور آندھی کی توقع ہے۔
کرپشن ثابت کریں، میں خود استعفیٰ دے دوں گا، سہیل آفریدی
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کا امکان ہے جبکہ میدانی علاقوں پشاور، مردان اور نوشہرہ میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیئر پھٹنے اور فلیش فلڈ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس پر پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 3 مئی سے مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل ہونے اور بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ پشاور، چترال، دیر، سوات اور کوہستان میں تیز اور بعض مقامات پر شدید بارش کا امکان ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے اور بارشوں کے باعث گلیشیئر پگھلنے اور ندی نالوں میں طغیانی سے فلیش فلڈ کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات اور پیشگی تیاری یقینی بنانے، حساس علاقوں میں نگرانی بڑھانے اور وارننگ سسٹم فعال رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ریسکیو اہلکاروں کو مشینری کی دستیابی یقینی بنانے اور ہر وقت تیار رہنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، مویشی اور قیمتی سامان محفوظ مقامات پر منتقل کریں، جبکہ تمام اداروں اور امدادی ٹیموں کو ہمہ وقت رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
