لاس اینجلس میں منعقدہ انڈین فلم فیسٹیول میں پاکستانی سینما نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں منتخب فلموں کے لیے اعزازی تذکرے حاصل کر لیے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
برصغیر کی فلموں کے وسیع انتخاب میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی فلمیں ’’لالی‘‘، ’’گھوسٹ اسکول‘‘ اور ’’پرمیننٹ گیسٹ‘‘ اپنی مضبوط کہانیوں اور منفرد موضوعات کے باعث جیوری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
کراچی میں معروف ڈیزائنر دیپک پروانی تین ماہ میں تین بار لٹ گئے
ہدایتکار سرمد کھوسٹ کی فلم ’’لالی‘‘ اور سیماب گل کی ’’گھوسٹ اسکول‘‘ کو فیچر فلم کی کیٹیگری میں اعزازی تذکرہ دیا گیا، جبکہ ثناء جعفری کی مختصر فلم ’’پرمیننٹ گیسٹ‘‘ نے شارٹ فلم کی کیٹیگری میں یہی اعزاز اپنے نام کیا۔
View this post on Instagram
فلم ’’لالی‘‘ ایک ڈارک کامیڈی ہے جو ازدواجی تعلقات میں موجود خوف، عدم تحفظ اور سماجی دباؤ جیسے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔ کہانی زیبا نامی کردار کے گرد گھومتی ہے، جس کے ماضی سے جڑی پراسرار اموات اسے معاشرتی بدشگونی کی علامت بنا دیتی ہیں۔ یہ فلم اس سے قبل برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی پیش کی جا چکی ہے، جہاں اسے مکمل پاکستانی کاسٹ اور عملے کے ساتھ نمائش کا اعزاز حاصل ہوا۔
لاریب ملک نے رجب بٹ کا پیغام سوشل میڈیا پر لیک کردیا، نیا تنازع کھڑا
View this post on Instagram
دوسری جانب ’’گھوسٹ اسکول‘‘ دیہی پاکستان میں بند پڑے تعلیمی اداروں کے مسئلے کو نمایاں کرتی ہے۔ کہانی ایک کم عمر بچی رابعہ کی جدوجہد پر مبنی ہے، جو اپنے اسکول کی اچانک بندش کے اسباب جاننے کے لیے سماجی رکاوٹوں اور فرسودہ نظام کا سامنا کرتی ہے۔ اس فلم کو ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی پذیرائی مل چکی ہے۔
View this post on Instagram
ثناء جعفری کی مختصر فلم ’’پرمیننٹ گیسٹ‘‘ جنوبی ایشیائی معاشروں میں بچپن کے جنسی استحصال کے دیرپا اثرات کو موضوع بناتی ہے۔ لاہور کے پس منظر میں تیار کی گئی یہ فلم ایک نوجوان لڑکی کی کہانی بیان کرتی ہے، جو خاندانی ذمہ داریوں اور ماضی کے تلخ تجربات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ان فلموں کی یہ کامیابی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، جو عالمی سطح پر ملک کے تخلیقی بیانیے اور اہم سماجی موضوعات کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
