ایرانی پارلیمنٹ کے مشیر اسپیکر مہدی محمدی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کی کوئی اہمیت نہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس اعلان کی کوئی اہمیت نہیں اور ہارنے والا فریق شرائط کا حکم نہیں دے سکتا۔
مہدی محمدی نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی دراصل بمباری کے مترادف ہے اور اس کا جواب فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔
تمدید آتش بس از جانب ترامپ هیچ معنایی ندارد. طرف بازنده نمی تواند شرایط تعیین کند. تداوم محاصره تفاوتی با بمباران ندارد و باید به آن پاسخ نظامی داد. ضمن اینکه تمدید آتش بس از جانب ترامپ قطعا به معنای خرید زمان به منظور ضربه غافلگیرانه است. زمان ابتکار عمل ایران است.
— Mahdi Mohammadi (@mmohammadii61) April 21, 2026
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع دراصل ایک چال ہو سکتی ہے تاکہ اچانک حملے کیلئے وقت حاصل کیا جا سکے، اس لیے ایران کو خود پیش قدمی کرتے ہوئے صورتحال کا کنٹرول سنبھالنا ہوگا۔
ٹرمپ کا ایران کی بحریہ و فضائیہ تباہ کرنے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ
واضح رہے کہ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر جنگ بندی میں مزید توسیع کا اعلان کیا ہے۔
