جاپان میں تکیوں سے لڑائی کی سالانہ چیمپئن شپ


جاپان میں سالانہ تکیوں کی لڑائی کی چیمپئن شپ میں پورے ملک سے درجنوں ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔

‘ایتو’ قصبے میں ایک دوسرے کو تکیے مار کر لڑائی کرنا، بچپن کے مقبول مشغلوں میں سے ایک ہے، یہ ایک ایسا کھیل ہے جو دنیا میں شاید کہیں نہیں کھیلا جاتا ہے۔

اس میں چیمپئن شپ میں چھوٹے بچوں سے لے کر عمر رسیدہ بزرگوں تک، باقاعدہ ٹیموں کی شکل میں حصہ لیتے ہیں۔ چیمپئن شپ میں تکیوں سے لڑائی کے باقاعدہ اصول بھی ہیں جن کے بارے میں یوٹیوب پر کئی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔

کبڈی اور ریسلنگ کی طرح اس چیمپئن شپ میں بھی ایک جگہ مخصوص ہوتی ہے جس کے اندر رہتے ہوئے ہی تکیوں سے لڑائی کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ہر ٹیم میں پانچ کھلاڑی ہوتے ہیں جبکہ زیادہ سخت تکیے استعمال نہیں کیے جاسکتے، مخالف ٹیم کے تکیوں کا حملہ روکنے کےلیے خاص جسمات اور موٹائی والی ایک نرم رضائی یا لحاف کا استعمال ہی کیا جاسکتا۔

کھیل شروع ہونے سے پہلے تمام کھلاڑیوں کو وہیں ایک کونے میں رضائی اوڑھ کر لیٹنا پڑتا ہے جبکہ وہ صرف اسی وقت اٹھ سکتے ہیں کہ جب ریفری سیٹی بجا دے۔

جبکہ ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ کھیل کے دوران کسی کو ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا اور نہ ہی دھکا دیا جاسکتا ہے۔ سارا کھیل صرف اور صرف تکیوں اور رضائی سے ہی کھیلا جاسکتا ہے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق، جب پہلی بار یہ چیمپئن شپ منعقد ہوئی تو اس میں صرف دو ہی ٹیمیں تھیں لیکن اگلے ہی سال اس میں چھ ٹیموں کا اضافہ ہوا۔

چیمپئن شپ جیتنے والے کو ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے کا نقد انعام دیا جاتا ہے، جو انتہائی کم ہے لیکن اس چیمپئن شپ کے شرکاء کا مقصد انعام نہیں بلکہ تفریح حاصل کرنا ہوتا ہے۔

 


متعلقہ خبریں