فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے قانون کی منظوری دے دی جس کے بعد فرانس یہ قانون نافذ کرنے والا یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا۔
برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی
رائٹرز کے مطابق فرانسیسی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے قانون کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی۔ سینیٹ میں بل کے حق میں 243 جبکہ مخالفت میں صرف 2 ووٹ آئے، جب کہ قومی اسمبلی میں 279 ارکان نے قانون کے حق میں اور 81 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
یہ قانون یکم ستمبر 2026 سے نافذ ہوگا جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چار ماہ کے اندر 15 سال سے کم عمر بچوں کے موجودہ اکاؤنٹس بند کرنا ہوں گے جب کہ نئے صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے قابلِ اعتماد نظام بھی متعارف کرانا ہوگا۔
16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی لگائی جائے ، پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع
قانون کا مقصد بچوں کو آن لائن ہراسانی، ذہنی صحت پر منفی اثرات اور سوشل میڈیا کے دیگر ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اس اقدام کے حامی ہیں اور وہ نوجوانوں میں اسکرین ٹائم کم کرنے پر بھی زور دیتے رہے ہیں۔
نئے قانون کے مطابق ہائی اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے فرانسیسی پرائیویسی ریگولیٹر کے تحت عمر کی تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
برطانوی سوشل میڈیا انفلوئنسر بھائی سمیت امریکا میں گرفتار
رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں عمومی طور پر ایسی پابندیوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں، تاہم انہوں نے حکومتی قوانین پر عمل درآمد کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب یورپی کمیشن بھی جائزہ لے رہا ہے کہ آیا یہ قانون یورپی یونین کے ڈیجیٹل قوانین سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
