امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ فوج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے مکمل کر لیے ہیں ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی آپریشنز مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 22, 2026
بیان کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران نے علاقائی اور عالمی تجارت کے لیے اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔
سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ ان “بلاجواز حملوں” سے سیکڑوں بے گناہ ملاحوں کی جانیں خطرے میں پڑیں اور بین الاقوامی آبی راستوں میں آزادانہ جہاز رانی متاثر ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے، جبکہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 450 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حمل میں مدد فراہم کی ہے۔
CENTCOM forces began striking military targets in Iran at 7 p.m. ET today for the 11th consecutive night. The strikes are designed to continue degrading Iran’s ability to threaten commercial shipping in the Strait of Hormuz.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 21, 2026
دوسری جانب ایرانی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات کے بعد فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فضائی حملے بوشہر کے نواحی علاقوں تک پہنچ گئے ہیں جبکہ کرمانشاہ، بوشہر اور خوزشتان میں بھی امریکی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
امریکا ایران کشیدگی ، خام تیل کی قیمت ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کناک اور سیریک میں بھی متعدد دھماکوں کی گونج سنائی دی ہے۔ ممکنہ خطرے کے پیش نظر تہران میں فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاہم فوری طور پر حملوں سے ہونے والے نقصان یا جانی نقصانات کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
