امریکہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت سے مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے کمیشن نے بھارت سے متعلق اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کورونا بحران کے دوران بھارتی حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی حکومت متنازع شہریت کے قانون پر احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کر رہی ہے۔
امریکی کمیشن نے کہا ہے کہ بھارت میں گرفتار صفورا زرگر حاملہ خاتون ہیں،۔ بھارت اپنا جمہوری حق مانگنے والوں کو نشانہ بنانا بند کرے۔ احتجاج ہرفرد کا جمہوری حق ہے۔
خیال رہے کہ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی پہلے ہی بھارت کو تشویشناک ممالک میں شامل کرنے کی سفارش کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی کمیشن نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کی سفارش کردی
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اجراء کردہ رپورٹ میں بھارت کو بطور “تشویشناک ملک” نامزد کر کےسخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کر دی تھی۔
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندوستان نے جان بوجھ کر مذہبی آزادی کیخلاف منظم پرتشدد کارروائیوں کی اجازت دی۔ بھارت نے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ بھارتی حکومت، اداروں، حکام پر سفارتی، انتظامی پابندیاں عائد کی جائیں۔
امریکی کمیشن نے سفارش کی تھی کہ مذہبی آزادیاں سلب کرنے میں ملوث افراد کے اثاثے منجمد اور ان کی امریکا داخلہ پر پابندی عائد کی جائے۔ بھارتی شخصیات کیخلاف کارروائی کیلئے مالیاتی اور ویزا حکام کو پابند بنایا جائے۔
دریں اثناء ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ دنیا کورونا پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے، کورونا کے باوجود بھارتی حکومت کا اپنے ناقدین پر کریک ڈاوَن جاری ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بھارت میں حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف امتیازی قوانین استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں انسانی آزادیوں کے منافی قوانین عوام کو خوف زدہ کرنے کا ہتھیار ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت امتیازی قوانین کو واپس لے۔
خیال رہے کہ ایمنسٹی کی ٹویٹ میں گرفتار کشمیری صحافیوں کی تصویریں بھی موجود ہیں۔
