راجستھان: بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے ریاستی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انتہا پسند ہندوؤں کو مشتعل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے پاکستانی ہندوؤں سے بھی اظہار ہمدردی دکھانا شروع کردی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق راجستھان اسمبلی کے انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے گزشتہ روز بی جے پی نے منگل کو جو انتخابی منشور جاری کیا ہے اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان سے بے گھر ہندوؤں کو شہریت دے گی۔
سیاسی مبصرین کو یقین ہے کہ راجستھان کے انتخاب کو مد نظر رکھ کر بی جے پی نے بھارت کے انتہاپسند ہندوؤں کو ایک ’لالی پاپ‘ دیا ہے تاکہ وہ ان کی ہمدردیاں سمیٹ کر’چناؤ‘ جیت سکے۔
بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمان دشمنی کا اظہار اس طرح بھی کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اور روہنگیا کے مسلمانوں کی شناخت کرکے انہیں ملک سے باہر بھیجا جائے گا۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/109307/” position =”left”]
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق انتخابی منشور میں مختلف علاقوں کے لیے ایک درجن سے زیادہ بورڈوں کی تشکیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ بعد میں پارٹی رہنماؤں کی بورڈ وں کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جائے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق انتخابی منشورجاری کرتے وقت وزیراعلیٰ وسندھرا راجے نے دعویٰ کیا کہ 2013 میں جو وعدے کیے تھے ان میں سے 95 فیصد پورے ہوگئے ہیں۔
بی جے پی کی جانب سے جاری کردہ منشور کی تقریب میں شریک مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ بی جے پی کا یہ انتخابی منشور مستقبل کی گائیڈ لائن ہے۔
ان کا الزام تھا کہ کانگریس ذات پات کو فروغ دے رہی ہے اوروزیراعلیٰ کے منصب کے لئے صرف چھ ذات کے لوگوں کو آگے لایا جارہا ہے۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/108944/” position =”left”]
انتہاپسند ہندوؤں کو جذباتی طور پر اقلیتوں کے خلاف مشتعل کرکے ووٹ حاصل کرنے کی پالیسی پر گامزن بی جے پی کو پاکستان میں آباد ان ہندوؤں کے لیے بھی پیٹ میں مروڑاٹھنے لگا ہے جو نہایت اطمینان و سکون سے اپنی مذہبی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
مملکت خداداد پاکستان میں آئینی و قانونی اعتبار سے اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور وہ اپنے تمام فیصلے کرنے میں اسی طرح آزاد ہیں جس طرح ایک مسلمان ہوسکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت ہر وہ حربہ اختیارکررہی ہے جو پاکستان دشمنی پر مبنی ہو تاکہ انتہاپسند اسے اپنا خیرخواہ سمجھیں اوروہ ریاستی انتخاب میں کامیابی حاصل کرسکے۔
