امریکی تاریخ میں پہلی بار متعدد سیاہ فام گورنرز بیک وقت عہدے سنبھالیں گے، خواتین گورنرز کی تعداد بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، ڈیموکریٹس نے 16 سال بعد گورنر شپ میں بھی اکثریت حاصل کرلی۔
امریکا کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں گورنرز کے انتخاب کے دوران کئی تاریخی نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں پہلی مرتبہ متعدد منتخب سیاہ فام گورنرز ایک ہی وقت میں مختلف ریاستوں کی قیادت کریں گے جبکہ خواتین کی گورنر کے عہدوں پر کامیابیوں نے بھی نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹ امیدواروں نے جارجیا، ٹیکساس، اوہائیو، آئیووا اور وسکونسن سمیت اہم ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ جارجیا میں کیشا لانس باٹمز امریکا کی کسی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئیں۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا نے ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ریاست کی پہلی ہسپانوی نژاد گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ اوہائیو میں ایمی ایکٹن نے ری پبلکن امیدوار ویوک راماسوامی کو شکست دے کر ریاست کی پہلی منتخب خاتون گورنر بن کر تاریخ رقم کردی۔
کیشا لانس باٹمز امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب
ریاست جارجیا میں ڈیموکریٹ امیدوار اور اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز نے ری پبلکن امیدوار اور ارب پتی کاروباری شخصیت رک جیکسن کو شکست دے دی۔
رائٹرز کے مطابق 56 سالہ کیشا لانس باٹمز امریکا کی تاریخ میں کسی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں۔ وہ جارجیا کی پہلی خاتون گورنر بھی ہوں گی۔

وہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں وائٹ ہاؤس میں سینئر مشیر اور دفتر برائے عوامی رابطہ کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔
ان کی کامیابی سے جارجیا میں دو دہائیوں سے زائد عرصے سے قائم ری پبلکنز کی گورنر شپ کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ موجودہ ری پبلکن گورنر برائن کیمپ کی جگہ عہدہ سنبھالیں گی۔
رائٹرز کے مطابق ان کی انتخابی کامیابی میں سیاہ فام ووٹرز اور مختلف نسلی و سماجی گروہوں پر مشتمل ڈیموکریٹ اتحاد کا اہم کردار رہا۔
امریکا میں پہلی مرتبہ پانچ سیاہ فام گورنرز بیک وقت خدمات انجام دیں گے
امریکی سیاست میں ایک اور تاریخی پیش رفت کے تحت 2027 میں پانچ سیاہ فام گورنرز بیک وقت مختلف ریاستوں کی قیادت کریں گے۔
ویس مور — میری لینڈ: ڈیموکریٹ گورنر نے دوبارہ انتخاب جیت کر اپنی نشست برقرار رکھی۔
بائرن ڈونلڈز — فلوریڈا: ری پبلکن امیدوار نے کامیابی حاصل کرکے امریکا کے پہلے منتخب سیاہ فام ری پبلکن گورنر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
کیشا لانس باٹمز — جارجیا: امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔
ڈیوڈ کراؤلی — وسکونسن: ملواکی کاؤنٹی کے سابق ایگزیکٹو نے کامیابی حاصل کرکے ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
ایرون فورڈ — نیواڈا: ڈیموکریٹ امیدوار اور ریاست کے اٹارنی جنرل نے موجودہ گورنر کو شکست دے دی۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ امریکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔ اس سے پہلے امریکا کی تاریخ میں صرف تین سیاہ فام سیاست دان عوامی ووٹوں سے ریاستوں کے گورنر منتخب ہوئے تھے، جن میں ویس مور سمیت دو سابق گورنرز شامل تھے۔
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ امریکی تاریخ میں سیاہ فام سیاست دانوں کو ریاستی سطح کے اعلیٰ ترین منتخب عہدوں تک پہنچنے میں طویل عرصے تک نسلی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔
خواتین گورنرز کی تعداد بھی تاریخی سطح پر پہنچ گئی
امریکی وسط مدتی انتخابات میں خواتین امیدواروں کی کامیابیوں نے بھی نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔
این بی سی نیوز کے مطابق اگلے سال کم از کم 17 خواتین امریکی ریاستوں کی گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں گی جو ملک کی تاریخ میں ایک ریکارڈ تعداد ہے۔

اس سے قبل بیک وقت خواتین گورنرز کی سب سے زیادہ تعداد 14 ریکارڈ کی گئی تھی، اس مرتبہ ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں جماعتوں کی خواتین امیدواروں نے کامیابیاں حاصل کیں۔
اوہائیو، ٹیکساس اور جارجیا سمیت کئی ریاستوں میں خواتین امیدواروں نے ایسے عہدے حاصل کیے جو اس سے قبل مرد سیاست دانوں کے پاس تھے۔
اوہائیو میں ایمی ایکٹن پہلی منتخب خاتون گورنر بن گئیں
ریاست اوہائیو میں ڈیموکریٹ امیدوار ایمی ایکٹن نے ری پبلکن امیدوار ویوک راماسوامی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی۔
ایمی ایکٹن ریاست کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ اگرچہ اوہائیو میں اس سے قبل نینسی ہولسٹر مختصر مدت کے لیے قائم مقام گورنر رہ چکی ہیں، تاہم ایکٹن ریاست کی پہلی خاتون ہیں جنہیں باقاعدہ انتخاب کے ذریعے اس منصب کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

وہ صحتِ عامہ کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں اور سابقہ دور میں اوہائیو کی محکمہ صحت کی ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
ان کی کامیابی کو ڈیموکریٹس کے لیے اہم انتخابی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے کیونکہ ریاست میں اس سے قبل 2006 میں آخری مرتبہ کسی ڈیموکریٹ نے گورنر کا انتخاب جیتا تھا۔
ٹیکساس میں جینا ہینوجوسا نے گریگ ایبٹ کو شکست دے دی
ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا نے ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر بڑا انتخابی اپ سیٹ کردیا۔
جینا ہینوجوسا ریاست کی پہلی ہسپانوی نژاد خاتون گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ ان کی کامیابی کے ساتھ ٹیکساس میں 1990 کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹ جماعت کا امیدوار گورنر منتخب ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ہینوجوسا نے اپنی انتخابی مہم میں بدعنوانی کے خاتمے، مہنگائی اور عوامی اخراجات میں کمی، سرکاری اسکولوں میں سرمایہ کاری اور ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے ہوئے اثرات جیسے معاملات کو اہمیت دی۔
انتخابی مہم کے دوران گریگ ایبٹ کو مالی وسائل اور انتخابی تشہیر کے حوالے سے نمایاں برتری حاصل تھی تاہم ہینوجوسا کامیاب رہیں۔ ایبٹ نے شکست تسلیم کرلی اور اقتدار کی منتقلی میں تعاون کا اعلان کیا۔
ڈیموکریٹس نے 16 سال بعد گورنر شپ میں اکثریت حاصل کرلی
رائٹرز کے مطابق 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ جماعت نے گورنرز کے انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جماعت نے پانچ اہم ریاستوں جارجیا، ٹیکساس، اوہائیو، آئیووا اور وسکونسن میں ری پبلکنز سے گورنر کے عہدے چھین لیے۔
ان کامیابیوں کے نتیجے میں ڈیموکریٹس کو 2010 کے بعد پہلی مرتبہ ملک کی ریاستوں میں گورنر کے عہدوں کی مجموعی اکثریت حاصل ہوگئی۔
انتخابی نتائج کے مطابق جارجیا میں کیشا لانس باٹمز نے ری پبلکن رک جیکسن کو شکست دی۔ ٹیکساس میں جینا ہینوجوسا نے موجودہ گورنر گریگ ایبٹ کو ہرایا۔
اوہائیو میں ایمی ایکٹن نے ویوک راماسوامی کو شکست دی۔ آئیووا میں ڈیموکریٹ روب سینڈ نے ری پبلکن زیک لان کو ہرایا جبکہ وسکونسن میں ڈیوڈ کراؤلی نے ری پبلکن ٹام ٹفنی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔
رائٹرز کے مطابق ان انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت، مہنگائی اور عوام کے روزمرہ اخراجات اہم انتخابی موضوعات رہے۔ اس کے علاوہ اسقاطِ حمل کے حقوق، تعلیم، ماحولیاتی صحت، پانی کے وسائل اور ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جیسے معاملات بھی انتخابی مہم میں زیرِ بحث آئے۔
ڈیموکریٹس کی کامیابیوں کو آئندہ 2028 کے صدارتی انتخابات کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ جارجیا، وسکونسن اور دیگر ریاستیں صدارتی انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔
امریکی سیاست میں نئی تاریخ
2026 کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے امریکی سیاست میں نسلی اور صنفی نمائندگی کے حوالے سے کئی نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔
کیشا لانس باٹمز امریکا کی پہلی منتخب سیاہ فام خاتون گورنر بنیں، بائرن ڈونلڈز امریکا کے پہلے منتخب سیاہ فام ری پبلکن گورنر بنے، پانچ سیاہ فام گورنرز بیک وقت خدمات انجام دیں گے۔
ایمی ایکٹن اوہائیو کی پہلی باقاعدہ منتخب خاتون گورنر بنیں، جینا ہینوجوسا ٹیکساس کی پہلی ہسپانوی نژاد گورنر منتخب ہوئیں۔کم از کم 17 خواتین اگلے سال امریکی ریاستوں کی گورنر ہوں گی۔
ڈیموکریٹس نے 16 سال بعد گورنرز کے عہدوں میں قومی سطح پر اکثریت حاصل کرلی۔
یوں امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے علاوہ ریاستی حکومتوں کی سطح پر بھی نسلی، صنفی اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے کئی اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔



