امریکا کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ملکی سیاست میں اپنی نمائندگی کو مزید مضبوط کرلیا ہے۔
ابتدائی انتخابی نتائج اور میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم 7 مسلم امیدوار امریکی کانگریس کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید بھی شامل ہیں، جنہوں نے امریکی سینیٹ کا رکن منتخب ہونے والے پہلے مسلمان کا اعزاز حاصل کرلیا۔
عبدال السید نے ریاست مشی گن سے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی جبکہ ایوانِ نمائندگان کی 6 نشستوں پر مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان میں 4 موجودہ ارکان نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں جبکہ 2 نئے امیدوار پہلی مرتبہ کانگریس کا حصہ بنے۔
اس کے علاوہ نیویارک اور الینوائے میں بھی 2 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، جس کے بعد وفاقی اور ریاستی قانون ساز اداروں میں کامیاب ہونے والے مسلم امیدواروں کی مجموعی تعداد کم از کم 9 ہوگئی ہے۔
امریکی سینیٹ میں پہلے مسلمان رکن کا انتخاب
ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ 42 سالہ عبدال السید مصری نژاد امریکی شہری ہیں اور مصری تارکین وطن کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
وہ صحتِ عامہ کے سابق عہدیدار رہ چکے ہیں، ان کی انتخابی مہم کا بنیادی محور صحت کی سہولیات تک رسائی، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں کمی اور سیاست میں بڑی کارپوریشنز کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔
It is my honor and privilege to be headed to the US Senate to serve the great state of Michigan.
Michigan, we did what they said couldn’t be done. We won. Together. Now the real work begins. https://t.co/ITgNRyUkNc
— Dr. Abdul El-Sayed (@AbdulElSayed) November 4, 2026
عبدال السید نے اسرائیل کو غیر مشروط امریکی فوجی امداد دینے کی مخالفت کی اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا۔
انتخابی مہم کے دوران ان کے ری پبلکن مخالفین نے ان کی مسلم شناخت کو بھی سیاسی بحث کا موضوع بنایا اور انہیں اخوان المسلمون سے جوڑنے کے الزامات عائد کیے تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا۔
امریکی ایوانِ نمائندگان میں 6 مسلم امیدوار کامیاب
امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں کامیاب ہونے والے 6 مسلم امیدواروں میں 4 موجودہ ارکان شامل ہیں، جنہوں نے دوبارہ انتخاب جیتا، جبکہ 2 نئے امیدوار پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ بنے۔
الہان عمر کی پانچویں مرتبہ کامیابی
صومالی نژاد امریکی سیاست دان الہان عمر نے مینیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے پانچویں مرتبہ کامیابی حاصل کرلی۔
ان کا انتخابی حلقہ منیاپولس اور اس کے گردونواح کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ وہ صومالیہ سے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا پہنچی تھیں اور 2018 میں پہلی مرتبہ امریکی کانگریس کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔
View this post on Instagram
الہان عمر امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کی نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں اور انسانی حقوق، تارکین وطن کے حقوق اور فلسطینی عوام کے حق میں اپنے مؤقف کے باعث بھی شہرت رکھتی ہیں۔
رشیدہ طلیب کی ریاست مشی گن میں دوبارہ کامیابی
فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب نے مشی گن کے بارہویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔
ان کا حلقہ ڈیٹرائٹ اور ڈیئر بورن کے میٹروپولیٹن علاقوں پر مشتمل ہے، رشیدہ طلیب نے 2018 میں الہان عمر کے ساتھ امریکی کانگریس کی پہلی دو مسلم خواتین ارکان میں شامل ہوکر تاریخ رقم کی تھی۔
View this post on Instagram
وہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی سخت ناقد اور فلسطینی حقوق کی نمایاں حامی ہیں، انہیں مشی گن کی محنت کش آبادی اور بڑی عرب نژاد امریکی کمیونٹی کی حمایت بھی حاصل رہی ہے۔
آندرے کارسن نے بھی اپنی نشست برقرار رکھی
آندرے کارسن نے ریاست انڈیانا کے ساتویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے اپنی نشست برقرار رکھی۔
ان کا حلقہ انڈیاناپولس کے علاقے پر مشتمل ہے۔ وہ 2008 میں پہلی مرتبہ امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے تھے اور ایوان میں سب سے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے مسلم رکن ہیں۔
Today is Election Day. Make your voice heard and cast your ballot. Visit https://t.co/Sq5GCImNqN to find a voting location. https://t.co/C3zMdIxWHL
— André Carson (@RepAndreCarson) November 3, 2026
کارسن امریکی معاشرے میں مسلمانوں کی نمائندگی اور شہری حقوق کے فروغ کے لیے بھی سرگرم رہے ہیں۔
لطیفہ سائمن بھی دوبارہ کامیاب
کیلیفورنیا کے مشرقی خلیجی علاقے (ایسٹ بے) پر مشتمل بارہویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے لطیفہ سائمن نے دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔
View this post on Instagram
وہ شہری حقوق کی کارکن اور اکونادی فاؤنڈیشن کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے 2025 میں کانگریس میں قدم رکھا تھا اور اب وسط مدتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئیں۔
آدم حموی نے گریگ میلے کو شکست دے دی
مصری نژاد امریکی ڈاکٹر اور ڈیموکریٹ امیدوار آدم حموی نے نیو جرسی کے بارہویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ری پبلکن امیدوار گریگ میلے کو شکست دے دی۔
ان کی کامیابی کے ساتھ وہ نیو جرسی سے امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان اور پہلے عرب نژاد امریکی بن گئے ہیں۔
57 سالہ آدم حموی ایک سابق امریکی فوجی سرجن ہیں اور پلاسٹک سرجن کی حیثیت سے پرنسٹن میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے عراق میں امریکی فوج کے ساتھ بطور جنگی سرجن خدمات انجام دیں، جبکہ 2024 میں غزہ کے ایک اسپتال میں رضاکارانہ طبی خدمات بھی فراہم کیں۔ وہ شام اور سوڈان سمیت مختلف تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرچکے ہیں۔
View this post on Instagram
ان کا انتخابی منشور صحت کی سہولیات کی توسیع، سرکاری تعلیم میں سرمایہ کاری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت میں غیر ملکی فوجی امداد کو مشروط کرنے پر مشتمل تھا۔ انہوں نے طبی اور طلبہ کے قرضوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کی حمایت کی۔
آدم حموی نے ریٹائر ہونے والی طویل عرصے تک ڈیموکریٹ رکن رہنے والی بونی واٹسن کولمین کی خالی کردہ نشست حاصل کی۔
داریالیزا آویلا شیولیئر نے بھی ایوان نمائندگان میں جگہ بنا لی
نیویارک کے تیرہویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے داریالیزا آویلا شیولیئر نے کامیابی حاصل کرکے ایوانِ نمائندگان میں جگہ بنالی۔
ان کا انتخابی حلقہ اپر مین ہیٹن اور برونکس کے بعض علاقوں پر مشتمل ہے۔ وہ شہری حقوق کی تحقیقات سے وابستہ رہ چکی ہیں، ڈاکٹریٹ کی طالبہ اور سماجی کارکن ہیں جبکہ فلسطینی حقوق کے حوالے سے بھی سرگرم رہی ہیں۔
View this post on Instagram
ان کی کامیابی کے بعد امریکی ایوانِ نمائندگان میں منتخب ہونے والے مسلم ارکان کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔
ریاستی سینیٹ میں بھی دو مسلم امیدوار کامیاب
وفاقی کانگریس کے علاوہ دو مسلم امیدواروں نے ریاستی سینیٹوں کے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی۔ ان کی کامیابیاں امریکی سینیٹ کی نشستوں سے الگ ہیں۔
ابر کواس، نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کا بارہواں ضلع سے کامیاب
فلسطینی نژاد امریکی سماجی کارکن ابر کواس نے نیویارک کی ریاستی سینیٹ کے بارہویں انتخابی ضلع سے کامیابی حاصل کرلی۔
ان کا انتخابی حلقہ مغربی کوئنز کے بعض علاقوں پر مشتمل ہے، جن میں آسٹوریا، لانگ آئی لینڈ سٹی، سن سائیڈ، ووڈ سائیڈ اور جیکسن ہائٹس شامل ہیں۔
We made history. 🇵🇸 https://t.co/r9dnacASP5
— Aber Kawas (@AberKawas) November 4, 2026
وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی اولاد ہیں اور ان کی کامیابی کے ساتھ وہ نیویارک کی ریاستی اسمبلی میں منتخب ہونے والی پہلی فلسطینی مسلم خاتون بن گئی ہیں۔
نبیلہ سید۔۔۔۔الینوائے اسٹیٹ سینیٹ کے چھبیسویں ضلع سے کامیاب
مسلم ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید نے الینوائے کی ریاستی سینیٹ کے چھبیسویں انتخابی ضلع سے ری پبلکن امیدوار اور موجودہ رکن ڈاربی ہلز کو شکست دے دی۔
ان کا انتخابی حلقہ شکاگو کے شمال مغربی مضافاتی علاقوں کے بعض حصوں پر مشتمل ہے۔
I am so grateful to every single voter in the 26th Senate District who made this victory possible. https://t.co/yOZKGE7N1t
— Nabeela Syed (@NabeelaforIL) November 4, 2026
نبیلہ سید اس سے قبل الینوائے کی ریاستی ایوانِ نمائندگان کی رکن بھی رہ چکی ہیں، ان کی کامیابی سے ریاستی سینیٹ میں مسلم نمائندگی مزید مضبوط ہوگئی ہے۔
مسلم نمائندگی میں تاریخی اضافہ
امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم امیدواروں کی کامیابیوں نے ملکی سیاست میں ایک اہم سنگ میل قائم کیا ہے۔
اب تک کے نتائج کے مطابق اامریکی سینیٹ میں ایک مسلمان امیدوار عبدال السید کامیاب ہوئے۔ ایوانِ نمائندگان میں 6 مسلم امیدوار منتخب ہوئے۔
نیویارک اور الینوائے کی ریاستی سینیٹوں میں 2 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔وفاقی اور ریاستی قانون ساز اداروں میں کامیاب مسلم امیدواروں کی مجموعی تعداد کم از کم 9 ہوگئی۔
یہ کامیابیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مسلم اور عرب نژاد امریکی امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران مذہبی شناخت اور اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی پر اپنے مؤقف کی بنیاد پر سیاسی تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
خصوصاً غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، فلسطینی حقوق اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کے معاملات انتخابی مباحثے کا اہم حصہ رہے۔




