مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کے باوجود حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں جہاں امریکا نے مڈٹرم الیکشن کی پولنگ سے قبل آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے ‘قشم ‘ پر ’محدود نوعیت‘ کے فضائی حملے کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ حملے ’محدود نوعیت‘ کے معلوم ہوتے ہیں اور ان کا مقصد بڑے پیمانے پر کسی نوعیت کی عسکری کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے بھی ان حملوں کی ابتدائی رپورٹ شائع کی تھی۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں ایک دوسرے امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ حملے ’دفاعی اقدامات‘ کے طور پر کیے گئے کیونکہ ایرانی فورسز زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے ’امریکی اثاثوں‘ کو نشانہ بنا رہی تھیں۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ پینٹاگون نے اس خبر پر مؤقف کی درخواست مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرنے والی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو بھیجی تھی، تاہم سینٹ کام نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
اس سے قبل پیر کو ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا تھا کہ جزیرہ قشم میں متعدد دھماکے ہوئے ہیں۔
Five blasts were heard across Qeshm Island a few minutes ago. An IRNA correspondent on the island reported that the explosions came in rapid succession, and their severity indicated the strikes likely landed inside the island.
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) November 2, 2026
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ حملہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران واشنگٹن کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے سلسلے کی تازہ کارروائی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
تاہم پیر کو لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول پر خطاب کے بعد ان کے بیان سے ظاہر ہوا کہ وہ اب اس معاملے پر مختلف انداز میں سوچ رہے ہیں۔
