ایران نے امریکا کے سامنے آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی شرائط رکھ دی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا ایرانی مطالبات تسلیم اور بحری ناکہ بندی ختم کردے تو آبنائے ہرمز کو صرف 2 روز میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
عراقی کردستان کے شہراربیل سے شائع ہونے والے جریدے ”دی نیو ریجن“ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو پریس کانفرنس میں کہا کہ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں شامل ایران کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں 2 روز کے اندر پورے منصوبے پر عمل درآمد، آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کی بحالی اور مذاکرات کا عمل شروع کرنا ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مکمل انحصار واشنگٹن کی مرضی اور فیصلے پر ہے، میز پرموجود منصوبہ ایران کا پیش کردہ منصوبہ ہے اور اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے۔
ایران نے اپنی تجاویز پرعمل درآمد کے لیے 7 روزہ ٹائم فریم کم کرکے 2 دن کردیا ہے تاہم ایران کے جائز مطالبات پورے ہونے تک امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جون میں ہونے والی مفاہمت کا مقصد جنگ بندی اور 60 روز کے لیے مذاکرات کی بحالی تھا تاہم 21 روز بعد ہی لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے باعث یہ مفاہمت ناکام ہوگئی۔
ایران کے مطالبات میں تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ اورجنگ کے بعد تعمیرنوشامل تھے جبکہ امریکا کا اہم مطالبہ آبنائے ہرمزمیں آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی تھا۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا اورایران کے جائزمطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے نہ کوئی معاہدہ ہوگا اورنہ آبنائے ہرمزکودوبارہ کھولا یا محفوظ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود امریکا کی جانب سے ایران پرنئے حملوں کی دھمکیوں نے مذاکرات کے امکانات کومتاثرکیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اوراسرائیل 3 نومبرکے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پرممکنہ نئے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں، وائٹ ہاؤس نے 22 اکتوبر کوکہا تھا کہ امریکا انتخابات سے قبل ایران پر حملے دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ اہداف میں نطنزجوہری مرکز کے جنوب میں واقع پِک ایکس ماؤنٹین کا نام بھی لیا ہے، جہاں جوہری مواد ذخیرہ کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے۔



