امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور دوبارہ جنگ کے خدشات پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تہران کے ساتھ معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں جب کہ ایک یا 2 جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا باقی ہے جن پر ضرورت پڑنے پر صرف 10 منٹ میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔
فلوریڈا کے شہر پام بیچ میں واقع اپنے کلب مار اے لاگو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اس لیے معاہدے کے حوالے سے واشنگٹن کو زیادہ جلدی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو اب بھی ایک یا 2 جوہری مقامات سے نمٹنا ہے تاہم ان پر کارروائی کے لیے زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ ہفتے ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکان سے متعلق سوال پر واضح جواب دینے سے گریز کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا معاہدے کے لیے جلد بازی نہیں کر رہا کیونکہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔ایک یا 2 مقامات کو نشانہ بنانا باقی ہے تاہم ان پر کارروائی صرف 10 منٹ میں کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کی مسلح افواج کو حکم دیا تھا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر جواب دیا جائے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی مسلح افواج کو امریکی اور اسرائیلی اثاثوں کو اپنی حملے کی حدود میں لانے کی بھی ہدایت کی۔یہ بیان ان کے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم انہوں نے تہران پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے ثالث کوششیں کر رہے ہیں۔یہ جنگ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل کے سینیٹر فلیویو بولسونارو کے حوالے سے بھی گفتگو کی جو اپنے ملک کے صدارتی انتخابات میں بائیں بازو کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سے شکست کے بعد امریکا چلے گئے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ فلیویو بولسونارو امریکا میں جب تک چاہیں قیام کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے برازیل کے انتخابات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں انتخابات شرمناک تھے اور فلیویو بولسونارو کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سابق وکیل الینا حبا مِلڈن کو وینزویلا کے ایک بینکر کے خاندان کی جانب سے 50 ملین ڈالر سے زائد مالیت کا معاہدہ ملنے پر بھی تنقید کی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق الینا حبا مِلڈن نے یہ معاہدہ امریکی محکمہ انصاف میں کام کرتے ہوئے کیا تھا جب کہ بعد میں ٹرمپ نے اسی بینکر کو معافی دے دی تھی۔
ٹرمپ نے اس معاہدے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ الینا حبا مِلڈن سے کہہ چکے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں اس معاہدے کے تحت ادائیگی کی جائے۔



