امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا میں زیر حراست افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے افغان شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی انتظامیہ کا یہ منصوبہ عدالتی دستاویزات سے سامنے آیا ہے، جن کے مطابق امریکی حکام ابتدائی طور پر افغان تارکین وطن کو پیر سے لوزیانا کی امیگریشن حراستی تنصیبات سے پروازوں کے ذریعے پاکستان بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امیگرنٹ حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان پہنچنے کے بعد افغانستان واپس بھیجے جانے والے افراد کو طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان میں ایسے افغان شہری بھی شامل ہیں جو افغانستان میں امریکی فوج اور امدادی اداروں کے ساتھ کام کرتے رہے اور طالبان کے خوف سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔
افغان شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم افغان ایویک کے صدر اور امریکی بحریہ کے سابق اہلکار شان وان ڈائیور نے اس منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی انتظامیہ قانون شکنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز آنے کو تیار نہیں۔
On Monday, the U.S. could put more than 150 Afghans on a charter flight out of Louisiana. ICE has told a federal court the plane will land in Pakistan, with “onward transport” to Afghanistan.
Pakistan isn’t on these men’s removal orders. It’s the handoff point. An #AfghanEvac 🧵 https://t.co/ukfYkxxXBK— Shawn VanDiver (@shawnjvandiver) October 31, 2026
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ترجمان نے ہفتے کو ای میل کے ذریعے اے پی کو بتایا کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) مستقبل میں ہونے والی ملک بدری کی کارروائیوں پر آپریشنل سکیورٹی اور اہلکاروں کی حفاظت کے پیش نظر تبصرہ نہیں کرتا۔
دوسری جانب واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے اے پی کی جانب سے بھیجے گئے ای میل پیغامات کا فوری جواب نہیں دیا۔


