ایرانی فوج نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کسی بھی نئے حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مزید فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں جمعے کو اعلیٰ ایرانی حکام سے مذاکرات کیلیے تہران پہنچا، ایرانی حکام سے 12 گھنٹے کی طویل بات چیت کے بعد قطری ثالثوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صہیونیوں کے دباؤ میں آ کر انہیں خوش کرنے کے لیے ایک بار پھر خطے میں مہم جوئی کرتے ہیں تو جنگ کے شعلے بلاشبہ کہیں زیادہ وسیع جغرافیائی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ اور تنازع کا اختتام امریکی صدر کے اختیار میں نہیں رہے گا۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج خطے میں امریکا کی تمام فوجی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی قابض حکومت کے ساتھ مل کر ایک اور مشترکہ فوجی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو تہران کی جانب سے فوری اور غیر معمولی فوجی ردعمل دیا جائے گا۔
Iran threatens to expand regional war if US and Israel launch new joint aggression
——
Senior Iranian military spokesperson Brigadier General Mohammad Akraminia issued a stern warning to US President Donald Trump, declaring that Iran’s armed forces are closely monitoring all US military maneuvers across the region.Writing in a public statement on social media, Akraminia cautioned that any attempt by the White House to launch another joint military operation alongside the Israeli occupation will trigger an immediate and unprecedented armed response from Tehran.
“There is no doubt that the flames of war will engulf a much wider area, and the end of the conflict will not be in his hands,” Akraminia stated, warning that Washington will be unable to control or limit the scope of regional escalation once hostilities resume.
Citing Trump’s “distrustful” nature and long track record of betraying diplomatic commitments, the Iranian military leadership confirmed that defense units are relentlessly expanding operational readiness, upgrading offensive missile capabilities, and fortifying strategic maritime positions to repel potential aggressive actions.
“Given the US President’s dark record of betraying diplomacy, the Islamic Republic of Iran’s military, distrustful and indifferent to the enemy’s actions, is constantly upgrading its combat readiness. We are closely monitoring US movements in the region,” he wrote.
The elevated warnings from Tehran follow heightened military deployments by US Central Command in regional waters, as Washington moves additional naval assets to back Israeli military posture.
Iranian defense officials reiterated that while Tehran does not seek total escalation, any violation of Iranian sovereignty, military assets, or strategic maritime corridors will result in retaliatory operations striking US bases and allied targets across the region.
— The Cradle (@TheCradleMedia) October 31, 2026
ایرانی فوج کے ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں گی جو ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کی جرات کریں گے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو خط بھیجا ہے، جس کا مقصد مذاکرات بحال کرنا اور امریکا کی جانب سے مزید حملوں کو روکنا ہے۔
ایران نے امریکی نائب صدر کا خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس پر اپنے ردعمل کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
خیال رہے امریکا میں منگل کو وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جنہیں جنگ کی آئندہ سمت کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی ووٹرز میں تشویش پیدا کی ہے، جنگ کے حوالے سے ووٹرز میں پائی جانے والی بے چینی بھی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
قطر اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں، تاہم اب تک مذاکرات کسی مستقل معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز کی ناکا بندی اور دونوں جانب سے مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں نے خطے میں جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات برقرار رکھے ہیں۔



