ایران کے رکن پارلیمنٹ سید محمود نبویان نے کہا ہے کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے علیحدگی اختیار کرے اور اپنی جوہری پالیسی میں تبدیلی لائے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی قانون سازوں اور دیگر اہم شخصیات کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب سفارتی لائحہ عمل آگے بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور یمن کے حوثی گروپ سے متعلق کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
سید محمود نبویان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جبکہ ہم جنگ اور پابندیوں کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں، وقت آ گیا ہے کہ ایرانی قوم این پی ٹی معاہدے سے علیحدگی اختیار کرے اور اپنی جوہری پالیسی تبدیل کرے۔
اکنون که هزینههای بزرگی مانند جنگ و تحریم را داده ایم، زمان خروج ملت ایران از معاهده NPT و تغییر دکترین هسته ای است.
— سیدمحمود نبویان (@nabaviantwt) October 30, 2026
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے بتایا کہ معاہدے سے علیحدگی سے متعلق 10 تجاویز رجسٹرڈ کرائی جا چکی ہیں اور اس معاملے پر غور جاری ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی سیاستدان اور مذہبی رہنما محمد جواد حاج علی اکبری نے بھی ایران کی جوہری پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق انہوں نے جمعے کے خطبے کے دوران اس مطالبے کو قومی مطالبہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ کوئی عجلت میں کیا گیا یا جذباتی ردِعمل نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایرانی عوام کا وہ شعور کار فرما ہے جو امریکا کی جانب سے اپنے وعدوں کی پاسداری میں ناکامی کے حوالے سے پیدا ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران انٹرنیشنل نے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے حوالے سے بتایا کہ تسنیم نے اپنے تجزیے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے نے ایران کے مفادات کا تحفظ نہیں کیا۔
تسنیم نے اسرائیل اور امریکا کے ساتھ مسلسل جنگوں کے بعد معاہدے میں شامل رہنے کے فوائد پر بھی سوالات اٹھائے۔ ایجنسی کے مطابق جب ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے تو آئی اے ای اے ایرانی حقوق کے دفاع میں ناکام رہی، اس لیے معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنا تہران کے لیے ایک جائز آپشن ہو گا۔


