ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں امریکی ایم کیو ون (MQ-1) ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی نائب صدر نے دوبارہ مذاکرات کیلیے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط بھیجا ہے، واشنگٹن جوہری پروگرام پر بات چیت چاہتا ہے جبکہ ایران امریکی بحری ناکا بندی ختم کرنے اور تیل کی پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر امریکا ڈرون واقعے کے جواب میں فوجی کارروائی کرتا ہے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، تاہم مذاکرات کی بحالی کشیدگی کم کرنے کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ویب سائٹ پر جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کو فورس کے ایرو اسپیس ڈویژن نے ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والے جدید فضائی دفاعی نظام کی مدد سے نشانہ بنایا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ جدید نوعیت کا 14 واں ایم کیو ون ڈرون ہے جسے روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
Shortly before this, the IRGC Aerospace Force’s newly developed air defense system, operating under the country’s integrated air defense network, intercepted and brought down the fourteenth advanced MQ1 drone over the eastern Strait of Hormuz, near Sirik. https://t.co/t3LCa8FsWG
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 29, 2026
ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق ڈرون کو جنوبی ایران کے صوبے ہرمزگان میں ساحلی علاقے سیریک کے سامنے آبنائے ہرمز کے مشرقی جانب نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے جواب میں دفاعی اقدامات کے تحت آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھالنے اور اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری آمدورفت کے لیے ضوابط مقرر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ ایرانی حکام متعدد بار جہازوں کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ ان بحری راستوں کو استعمال نہ کریں جن کی ایران نے اجازت نہیں دی۔
خیال رہے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر نے سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں کیں، ان کوششوں کے نتیجے میں جون میں دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے تھے، تاہم آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سمیت دیگر معاملات کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوا۔



