مصر کی پارلیمنٹ نے پیر کو صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست پر سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے اور مملکت کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔
مصری سرکاری اخبار الاحرام کے مطابق ایوان نے صدر کو سعودی عرب کی حمایت اور دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار دے دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ صدر السیسی نے پارلیمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اگر سعودی عرب دفاعی معاونت طلب کرے تو مصر کو اس کی سرزمین اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی اجازت دی جائے۔
رائٹرز کے مطابق صدر السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے اس معاملے پر منظوری طلب کی تھی، ان کا مؤقف تھا کہ مصر سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کا مقصد یمن پر حملہ کرنا نہیں بلکہ سعودی عرب کا دفاع کرنا ہوگا۔
فوجی کارروائی کا مقصد سعودی عرب کا دفاع ہو گا
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 21 اکتوبر کو واضح کیا تھا کہ مصر کی ممکنہ فوجی معاونت کا مقصد سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہوگا، نہ کہ یمن پر حملہ کرنا۔
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بھی کہا کہ بیرونِ ملک دفاعی مقاصد کے لیے فوجی اہلکار یا سازوسامان بھیجنے کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہے۔
تاہم مصری حکومت نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے باضابطہ درخواست کی صورت میں کتنے فوجی بھیجے جائیں گے، معاونت کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کا دورانیہ کتنا ہوگا۔
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ مصر سعودی عرب کے دفاع کی حمایت کے ساتھ یمن کے تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ مصری مؤقف کے مطابق سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع بنیادی ترجیح ہوگا، نہ کہ یمن کے خلاف جارحانہ کارروائی۔
حوثیوں کے حملوں کے بعد فیصلہ
مصری پارلیمنٹ کی منظوری کا پس منظر یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے حملوں نے سعودی عرب کے اہم مقامات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھائے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو سے متعلق اہداف پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات نے سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے میں تیل کی ترسیل اور بحری راستوں کے تحفظ کے مسائل کو بھی نمایاں کیا ہے۔
یمن کے حوثی گروپ کو ایران کی حمایت حاصل ہے، جبکہ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ اس تنازع میں شدت کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید ممالک کی فوجی شمولیت سے علاقائی تصادم وسیع ہو سکتا ہے۔
پارلیمانی منظوری کیوں ضروری تھی؟
مصر کے آئین کے آرٹیکل 152 کے تحت ملک سے باہر مسلح افواج کو جنگی مشن پر بھیجنے کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے قومی دفاعی کونسل سے مشاورت اور پارلیمنٹ کے مجموعی ارکان کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
مصری پارلیمنٹ نے اس معاملے پر 18 اور 19 اکتوبر کو بند کمرے میں اجلاس کیے تھے، تاہم ابتدائی مشاورت کے بعد ووٹنگ مؤخر کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں 26 اکتوبر کو اجلاس میں صدر کی درخواست منظور کر لی گئی۔
مصری سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے اس سے قبل مجوزہ فوجی مشن کے مقاصد، مدت، اخراجات اور مصری فوجیوں کو لاحق ممکنہ خطرات سے متعلق مزید وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کی حمایت کرتے ہوئے غیر معینہ مدت تک فوجی مداخلت کے خطرات پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔
سعودی عرب اور مصر کے دفاعی و معاشی تعلقات
مصر اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے قریبی سیاسی، دفاعی اور معاشی تعلقات قائم ہیں۔ سعودی عرب مصر کو مالی معاونت، مرکزی بینک میں ڈپازٹس اور توانائی کی فراہمی کے ذریعے بھی مدد دیتا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ تعلقات قاہرہ کی علاقائی پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مصر نے مارچ 2015 میں یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں بھی حصہ لیا تھا، اس وقت مصر نے بنیادی طور پر بحری معاونت فراہم کی، بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھیجے اور فضائی معاونت کی پیشکش کی تھی۔ رائٹرز کے مطابق تقریباً 800 مصری زمینی فوجی بھی تعینات کیے گئے تھے، تاہم مصر کا براہِ راست جنگی کردار محدود رہا۔
موجودہ صورتِ حال میں سعودی عرب کی دفاعی معاونت کی منظوری مصر کے لیے ایک اہم پالیسی قدم ہے کیونکہ اس سے قاہرہ کے علاقائی تنازع میں زیادہ براہِ راست کردار ادا کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
آبنائے باب المندب اور نہر سویز کی اہمیت
سعودی عرب کے دفاع کا معاملہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور نہر سویز تک پھیل سکتے ہیں۔
آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور عالمی بحری تجارت کے لیے اہم راستہ ہے، اس راستے میں عدم تحفظ سے بحیرہ احمر کے ذریعے ہونے والی جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مصر کی نہر سویز سے حاصل ہونے والی آمدنی اور عالمی تجارتی نقل و حمل پر پڑ سکتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی اور بحری راستوں کو لاحق خطرات نے مصر کے لیے بھی سلامتی اور معاشی خدشات بڑھائے ہیں۔ اسی لیے قاہرہ سعودی عرب کے دفاع کی حمایت کے ساتھ تنازع کے سفارتی حل پر بھی زور دے رہا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے میں مصر شامل نہیں
سعودی عرب نے اگست 2026 میں پاکستان اور ترکیے کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مصر اس معاہدے میں شامل نہیں ہوا تاہم مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا تھا کہ اس میں شمولیت کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
مصر کی جانب سے اب سعودی عرب کے دفاع کے لیے پارلیمانی اجازت کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور ترکیے سمیت علاقائی ممالک بھی کشیدگی کم کرنے اور دفاعی تعاون کے امکانات پر رابطے کر رہے ہیں۔
سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری
فوجی معاونت کی منظوری کے باوجود مصر نے یمن کے تنازع کے سیاسی حل کی حمایت برقرار رکھی ہے، مصری حکام کا کہنا ہے کہ علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات اور سفارتی کوششیں ساتھ ساتھ جاری رہنی چاہئیں۔
پارلیمانی منظوری کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے باضابطہ درخواست آنے کی صورت میں مصر کس نوعیت کی معاونت فراہم کرتا ہے اور آیا اس میں فوجی تعیناتی بھی شامل ہوگی، فی الحال اس بارے میں کوئی حتمی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
مصر کا آئندہ کردار سعودی عرب کی سلامتی، یمن میں جاری لڑائی اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں کی صورتِ حال پر اثر انداز ہو سکتا ہے تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ فیصلوں اور خطے میں سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔



