مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے زیتون کے باغات پر حملوں، فصل کی چوری اور کاشت کاروں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینیوں، اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مطابق زیتون کی فصل کے موسم میں تشدد کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی تیار فصل بھی بڑے پیمانے پر چرائی جا رہی ہے۔
چند روز قبل مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں نے حملہ کرکے متعدد فلسطینیوں اور زیتون کے کھیتوں کا دورہ کرنے والی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیڈی لیوین کو زخمی کر دیا تھا۔
اس حملے کے ایک روز بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے یورپی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ کرکے 78 سالہ فرانسیسی میئر برنارڈ باؤڈوکس کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارتی مشنز کی گاڑیوں میں سوار سفارت کار مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں طیبہ پہنچے تھے، جہاں فلسطینی زیتون کی فصل جمع کر رہے تھے۔
مداخلت پر آبادکاروں کے حملے کا خدشہ
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مغربی کنارے کے گاؤں لبن الغربی سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ فلسطینی احمد سالم نے بتایا کہ اسرائیلی آبادکار ان کے قیمتی زیتون کے درختوں کو زیتون توڑ کر لے گئے۔ انہیں خدشہ تھا اگر وہ مداخلت کرتے تو ان پر بھی حملہ کیا جا سکتا تھا۔
احمد سالم کے مطابق آبادکار ان کے زیتون بوریوں میں بھر کر قریبی اسرائیلی آبادکار چوکی پر لے گئے، جہاں ان سے تیل نکالا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے دور میں 2022 سے مغربی کنارے میں سیکڑوں چھوٹی آبادکار چوکیاں قائم ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے ان کے آس پاس کے علاقوں اور زیتون کے باغات تک فلسطینیوں کی رسائی پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
فصل چوری ہونے کے 168 واقعات
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین کے مطابق آبادکاروں کے قریب واقع بہت سے علاقوں میں فلسطینیوں کو اپنی زمینوں پر جانے اور زیتون کی فصل کاٹنے کی اجازت نہیں ملتی، جبکہ آبادکار ان علاقوں میں آزادانہ آتے جاتے ہیں۔
تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زیو اسٹال کے مطابق زیتون کی فصل کا موسم شروع ہونے کے بعد ابتدائی 24 روز میں فلسطینی زیتون توڑنے والوں پر جسمانی حملوں کے 125 اور فصل چوری ہونے کے 168 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے کم از کم ایک چوتھائی واقعات کے دوران اسرائیلی فوج بھی موجود تھی۔
رائٹرز کے مطابق لبن الغربی گاؤں کے قریب واقع زیتون کے باغات سمیت سیکڑوں ایکڑ اراضی 2023 سے 2026 کے دوران اویوخائی فارم نامی اسرائیلی آبادکار چوکی کے ذریعے باڑ لگا کر قبضے میں لی گئی۔ فلسطینی کسانوں کا کہنا ہے کہ آبادکار زمینوں سے زیتون توڑ کر اپنی چوکی پر قائم تیل نکالنے والے کارخانے میں لے جاتے ہیں۔
زیتون کی فصل کے آغاز پر آبادکاروں نے سوشل میڈیا پر اسرائیلی شہریوں کو مغربی کنارے میں زیتون توڑنے اور اویوخائی فارم کے کارخانے میں لانے کی دعوت بھی دی۔ آبادکاروں کے ایک ٹیلی گرام گروپ کے پیغام میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد معیاری تیل تیار کرنے کے ساتھ علاقے میں یہودیوں کی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔
زیتون کے تیل کی بوتل کتنے ڈالر میں فروخت ہوتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق اس کارخانے میں تیار کردہ زیتون کا تیل تقریباً 20 ڈالر فی بوتل فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس سے وابستہ فارمز ایسوسی ایشن کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے نمایاں مالی معاونت ملنے کی اطلاعات ہیں۔
زیتون کی فصل پر قبضے کے معاملے پر اسرائیلی مذہبی رہنماؤں کی آراء بھی مختلف ہیں۔ بیت لحم کے جنوب میں واقع الون شوت بستی کے ربی زیو ویٹمین نے فلسطینیوں کی فصل لے جانے کو چوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ عمل ممنوع ہے۔
دوسری جانب آرتھوڈوکس ربی ڈوو لیور نے ایک کھلے خط میں آبادکاروں کی جانب سے مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کاٹنے کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ فلسطینیوں کو اس زمین کی ملکیت کا حق حاصل نہیں۔
اسرائیلی فوج کے ایک عہدیدار نے کہا کہ تشدد، مجرمانہ سرگرمیوں اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، تاہم انہوں نے آبادکاروں کی جانب سے زیتون کی چوری کی مخصوص اطلاعات پر تبصرہ نہیں کیا۔
فلسطینی حکام کے مطابق رواں سال زیتون کی فصل کے موسم میں آبادکاروں کے حملوں کے دوران تین فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد صحافی، یورپی سفارت کار اور فرانس کے ایک میئر بھی متاثر ہوئے ہیں۔
’یہودیوں کا اپنی تاریخی سرزمین پر زیتون توڑنا چوری نہیں‘
یش دین کے عہدیدار زیو اسٹال نے آبادکاروں کے تشدد کو فلسطینی آبادی کو علاقے سے بے دخل کرنے کی مہم کا حصہ قرار دیا، جس کے ذریعے ان کے بقول مغربی کنارے کو فلسطینی آبادی کے بغیر اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کا اپنی تاریخی سرزمین پر زیتون توڑنا چوری نہیں تاہم کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔
فلسطینی کسان سامر بن شمسی نے بتایا کہ 9 اکتوبر کو نابلس کے قریب واقع گاؤں بیتا میں نقاب پوش آبادکاروں نے ان پر حملہ کیا اور جب وہ اور دوسرے کسان جان بچا کر بھاگے تو آبادکار ان کی زیتون کی فصل پک اپ گاڑی میں لے گئے۔
سیمربن شمسی نے کہا، ”اس سال وہ بلا خوف و خطر چوری کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پیچھے ریاست اور ایک طاقتور قوت کھڑی ہے۔“
انہوں نے اپنے نقصان اور بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”ہم زیتون کے بدلے اپنے خون کی قیمت ادا کرتے ہیں۔“



