چین نے اسرائیل سے مغربی کنارے میں غیرقانونی آبادکاری روکنے کا مطالبہ کر دیا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے آذربائیجان میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاریاں قائم کرنے کا عمل روکے اور پہلے سے جاری اس عمل کو واپس لے۔
رائٹرز کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ چین مسئلہ فلسطین کو موجودہ صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ تک مکمل رسائی فراہم کی جانی چاہیے، وانگ یی نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں 20 لاکھ شہریوں کیلئےامداد او روسائل کی رسائی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے غزہ تک مکمل رسائی کھولنے اور انسانی بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ چین نے دو ریاستی حل کو تنازع کے خاتمے کا درست راستہ قرار دیا۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، امریکی خاتون صحافی زخمی
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں ابو فلاح میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران تقریباً 80 نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی کسانوں پر حملہ کیا، زیتون کے درختوں کو آگ لگائی اور پتھراؤ کیا۔ واقعے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے، جن میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ ہیدی لیون بھی شامل ہیں۔
زخمی صحافی نے اسپتال میں بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں زمین پر گرا کر لاتیں ماریں۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی جیکٹ اور ہیلمٹ نہ ہوتے تو ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا تھا، فلسطینی ساتھیوں کی مداخلت کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی گاڑیاں جائے وقوع پر پہنچیں تاہم حملہ جاری رہا۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کی سمت آنسو گیس فائر کی جبکہ علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ اسرائیلی فوج نے خبر کی اشاعت تک رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تھا۔
آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ
رائٹرز نے اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین کے حوالے سے بتایا کہ 27 ستمبر سے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے کم از کم 170 حملے رپورٹ ہوئے ہیں، یہ واقعات زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی کے آغاز کے بعد پیش آئے۔
مغربی کنارے میں تقریباً 5 لاکھ اسرائیلی آبادکار اور 30 لاکھ سے زائد فلسطینی آباد ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے اور بیشتر ممالک اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی سمجھتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس قانونی مؤقف سے اختلاف کرتا ہے۔



