اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے غزہ میں 5 لاکھ فلسطینیوں کی امداد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈبلیو ایف پی نے خبردار کیا ہے کہ فنڈز کی شدید کمی کے باعث غزہ میں غذائی امداد کے پروگرام میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کرنا پڑ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 5 لاکھ فلسطینی ماہانہ غذائی امداد سے محروم ہو جائیں گے۔
غزہ میں خوراک کی قلت کا بحران جنگ، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، امدادی سامان کی محدود رسائی اور بے گھر افراد کی بڑھتی ہوئی ضروریات سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ سال امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی معاہدے میں علاقے کی تعمیر نو، بحالی اور فلسطینیوں کو خوراک کی فراہمی کے منصوبے شامل تھے تاہم معاہدے پر عملدرآمد میں محدود پیشرفت کے باعث فلسطینیوں کو خوراک، صاف پانی، رہائش اور صحت کی سہولتوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈبلیو ایف پی نے ماہانہ غذائی امداد حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 16 لاکھ سے کم کرکے 11 لاکھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ خوراک کے راشن میں 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے، جبکہ 75 ہزار خاندانوں کے لیے نقد امداد بھی کم کر دی گئی ہے۔
The UN World Food Programme has said funding shortages are forcing major cuts to its aid program in Gaza, leaving about 500,000 people without monthly food support in a territory where two-thirds of the population struggle to get enough to eat https://t.co/R88aJOmADm
— Reuters (@Reuters) October 19, 2026
ڈبلیو ایف پی کے مطابق کھانا پکانے سے قاصر افراد کے لیے روزانہ فراہم کیے جانے والے تیار کھانوں کی تعداد بھی ڈھائی لاکھ سے کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کر دی گئی ہے۔ دور دراز علاقوں میں بعض خاندانوں کو اب ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن تیار کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔
14 لاکھ افراد کو غذائی قلت کا سامنا
عالمی پروگرام برائے خوراک نے بتایا کہ غزہ میں تقریباً 14 لاکھ افراد، یعنی مجموعی آبادی کا دو تہائی حصہ خوراک کی قلت یا اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، ان میں تقریباً 2 لاکھ افراد کو خوراک کی ہنگامی قلت کا سامنا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل اسکاو نے غزہ میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کو ایک سال گزرنے کے باوجود وہاں زندگی بدستور انتہائی مشکل ہے۔
’سرد موسم میں مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں‘
انہوں نے کہا کہ غزہ میں لوگوں کو مناسب رہائش، بنیادی سہولیات اور تحفظ میسر نہیں، جبکہ امدادی سرگرمیوں میں کٹوتیاں ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب فلسطینی عوام چوتھی سردی کے موسم کا سامنا کرنے والے ہیں۔
کارل اسکاو نے کہا کہ وہ غزہ میں سردیوں کی شدت کا مشاہدہ کر چکے ہیں اور یہاں سرد موسم انتہائی سخت ہوتا ہے، جس سے پہلے ہی مشکلات میں گھرے خاندانوں کی پریشانیاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ غزہ اور اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں اہم امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اسے آئندہ چھ ماہ کے دوران فوری طور پر 45 کروڑ ڈالر درکار ہیں۔
’عالمی برادری امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے تعاون بڑھائے‘
کارل اسکاو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ کی صورتحال سے توجہ نہ ہٹائے اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے تعاون بڑھائے۔ یہ وقت امداد برقرار رکھنے، اب تک حاصل ہونے والی پیشرفت کو محفوظ بنانے اور علاقے کی ابتدائی بحالی کے لیے مزید اقدامات کرنے کا ہے۔



