یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فورسز کے درمیان جاری جھڑپوں میں شدت آگئی ہے،تازہ حملوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات، ہوائی اڈوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی فورسز نے سعودی عرب کے جنوب کی جانب داغے گئے 10حوثی بیلسٹک میزائل تباہ کردیے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے، مختلف واقعات میں اب تک 21 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملوں میں 4 افراد جبکہ ریاض ائیر پورٹ پر رواں ماہ 20 حملوں کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق ہوئے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ینبع میں آرامکو کی تنصیب، رابغ آئل ریفائنری، خام تیل کی پائپ لائن اور پمپنگ اسٹیشنز کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، نجران کے ہوائی اڈے اور خمیس مشیط میں ایک ایئربیس بھی حملوں کا ہدف تھے۔
دوسری جانب سعودی اتحادی فورسز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے ذریعے آگاہ کیا کہ سعودی عرب کے جنوب میں حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل تباہ کردیے۔
التحالف:
اعتراض وتدمير 10 صواريخ باليستية أطلقتها الميليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه المنطقة الجنوبية. https://t.co/JPsQODwbSw
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 25, 2026
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ ریاض کی طرف داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے گئے۔ سعودی حکام نے ان حملوں کے تمام اہداف پر اثرات کے حوالے سے براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
التحالف:
الدفاع الجوي اعترض ودمر صاروخ باليستي أطلقته الميليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه الرياض. https://t.co/GdtWqjV7Bs
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 25, 2026
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ مکہ اور مدینہ کے علاقوں سمیت جدہ، طائف اور رابغ میں گرا۔ مکہ کے علاقے وادی المغمس میں بھی میزائلوں کے ٹکڑے گرنے کی اطلاع دی گئی۔
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ملبہ گرنے کے واقعات کا رابغ آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کے دعوے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
سعودی سول ڈیفنس نے ہفتے کو طائف، ینبع، مکہ اور جدہ کے شہریوں کو ممکنہ خطرے سے متعلق مختصر دورانیے کے انتباہات بھی جاری کیے تھے، تاہم تقریباً 10 منٹ بعد ادارے نے بتایا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
#الدفاع_المدني يدعو إلى توخي الحيطة واتباع الإرشادات إثر الحالة المناخية التي تشهدها أجزاء من منطقة #مكة_المكرمة .
ولمتابعة الحالة عبر الرابط:
https://t.co/Krk6RuxtRu https://t.co/jVtZTJTONc— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) October 24, 2026
حوثیوں نے مکہ اور مدینہ پر حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیوں کا ہدف سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں۔
ریاض ایئرپورٹ دوبارہ کھولنے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی
حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے اسے بدستور ’فوجی ہدف‘ قرار دیا۔
حوثی فوجی ترجمان نے ایئرلائنز، ایئرپورٹ عملے اور مسافروں کو خبردار کیا کہ وہ ایئرپورٹ استعمال نہ کریں، ان کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اس سے قبل ہفتے کی رات کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ 25 اکتوبر سے ٹرمینل ون اندرون ملک پروازوں، جبکہ ٹرمینل ٹو قومی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص ہوگا۔
حوثیوں نے رواں ماہ کے آغاز میں ایئرلائنز کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے خبردار کیا تھا تاہم مکہ اور مدینہ کے اوپر فضائی حدود کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔
یمن کی تازہ صورتحال
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی وزارت داخلہ کے مطابق حوثیوں نے جنوبی یمنی بندرگاہی شہر عدن میں کوسٹ گارڈ کے مقامات پر 3 بیلسٹک میزائل داغے۔
وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ 2 میزائل کوسٹ گارڈ کے ہیڈکوارٹر سے ٹکرائے جبکہ تیسرا میزائل التواہی ضلع میں کوسٹ گارڈ کی ایک عمارت پر گرا۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے عدن میں سعودی حمایت یافتہ فوجی اجتماعات، النصر کیمپ اور ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق وہاں سعودی افسران فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہے تھے۔ سعودی قیادت میں اتحادی فورسز نے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔



