مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو مصری فوج کی ممکنہ مدد صرف مملکت کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی اور اس میں یمن پر حملہ شامل نہیں ہو گا۔
سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں میں شدت آ گئی ہے جس پر دیگر ممالک کے طرح مصر نے بھی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس چیف حسن رشاد نے ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مصری وزیر خارجہ نے صدر السیسی کا تحریری پیغام شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو پہنچایا، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مصری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق صدر السیسی کے پیغام میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔ مصری صدر نے واضح کیا کہ اگر کسی دوسرے عرب ملک کو بھی خطرہ لاحق ہوا اور وہ مدد کی درخواست کرے تو مصر اس کی سرزمین کے دفاع میں تعاون کرسکتا ہے، تاہم مصری فوج کی کارروائی مصر یا اس عرب ملک کی سرزمین کے دفاع سے آگے نہیں بڑھے گی جس کی سلامتی اور استحکام کو تحفظ دینا مقصود ہو۔
سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی تعاون پر غور
مصر کی جانب سے سعودی عرب کو ممکنہ فوجی مدد مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع تر تنازع میں ایک اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی ہے، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مصری پارلیمان نے سعودی عرب کی درخواست پر مسلح افواج کو مدد فراہم کرنے کی اجازت دینے سے متعلق ووٹنگ 26 اکتوبر تک مؤخر کردی ہے۔ اس سے قبل پارلیمان میں اس معاملے پر ووٹنگ پیر کو متوقع تھی۔
مصر اور سعودی عرب کے قریبی تعلقات
مصر اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی، اقتصادی اور تزویراتی تعلقات قائم ہیں۔ 2013 میں مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے مصر کو مالی امداد، مرکزی بینک میں رقوم اور سرمایہ کاری فراہم کی تھی۔ بعد ازاں عبدالفتاح السیسی مصر کے صدر بنے تھے۔
مصر اس سے قبل 2015 میں یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل ہوا تھا، جس کا مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرنا تھا۔ تاہم اس خانہ جنگی میں مصر کا براہ راست جنگی کردار محدود رہا تھا۔
موجودہ صورت حال میں صدر السیسی نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے لیے مصر کی ممکنہ فوجی مدد دفاعی نوعیت کی ہوگی اور اس میں یمن پر حملہ کرنا شامل نہیں ہو گا۔



