امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر حملہ کل ہی کر سکتا ہے، تاہم تہران کے ساتھ معاہدہ بھی طے پا سکتا ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، اخبار نے حملوں سے متعلق امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے آگاہ دیگر افراد کا حوالہ دیا ہے۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق ممکنہ حملے کے بارے میں صحافی کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم حملے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور شاید کل ہی ایسا کر دیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی امریکا کے ساتھ معاہدہ کرکے مزید فوجی کارروائی سے بچ سکتا ہے۔ ہم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ معاہدے کی پاسداری کریں گے؟
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کا مقصد ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔ بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے امریکا کی پہلے کی گئی کارروائی بھی اس بات کی ضمانت دینے کے لیے کافی نہیں تھی کہ یہ مقصد مستقل طور پر حاصل ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ شاید مجھے اس معاملے کو مکمل طور پر ختم کرنا پڑے، یا ممکن ہے کہ وہ معاہدہ کر لیں۔ لیکن مجھے یقین نہیں۔ دونوں صورتوں میں جیت ہماری ہی ہو گی۔
خیال رہے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر نے سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں کیں، ان کوششوں کے نتیجے میں جون میں دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے تھے، تاہم آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سمیت دیگر معاملات کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوا۔



