امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ’بہت جلد کسی نہ کسی صورت کچھ ہونے والا ہے‘۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، اخبار نے حملوں سے متعلق امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے آگاہ دیگر افراد کا حوالہ دیا ہے۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا میں انتخابی جلسے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہو گی، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
President Trump tonight tells me the U.S. is not negotiating with Iran and something will happen “fairly soon.”
@NewsNation https://t.co/AYZGTlnpLy
— Libbey Dean (@LibbeyDean_) October 22, 2026
اس سے قبل انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم کر سکتا ہے لیکن میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ اس کا نتیجہ دیرپا ہو۔
’امریکا چاہے تو ابھی جنگ ختم کر سکتا ہے‘
انہوں نے کہا کہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، امریکا چاہے تو ابھی واپس جا سکتا ہے، لیکن وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ امن طویل عرصے تک برقرار رہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو عسکری اور مالی طور پر شکست دے دی ہے اور تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر نے سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں کیں، ان کوششوں کے نتیجے میں جون میں دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے تھے، تاہم آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سمیت دیگر معاملات کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوا۔



