سابق امریکی صدر باراک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیانیہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا لیکن ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے۔
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق اوہائیو میں ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما کا کہنا تھا کہ موجودہ صدر نے متعدد غلط فیصلے کیے جن میں سب سے اہم غیر ضروری جنگ شروع کرنے کا فیصلہ تھا۔”یہ لوگ سنجیدہ نہیں ہیں، بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں۔ ان کی غیر سنجیدگی کی قیمت بالآخر آپ کو چکانا پڑتی ہے۔“
امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات ٹرمپ کی حکومت کے لیے سیاسی امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں، وسط مدتی انتخابات میں ووٹرز عموماً صدر کی کارکردگی، معیشت، مہنگائی اور خارجہ پالیسی سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں تیل و ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات بھی امریکی انتخابی مہم میں اہم موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ انتخابات کے نتائج نہ صرف کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کی پوزیشن کا تعین کریں گے بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی آئندہ قانون سازی اور پالیسیوں پر عمل درآمد کی صلاحیت پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی کے دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں ایران کو مزید اقتصادی اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے۔
Obama on Iran:
Let’s think about this Iran war. The original rationale was, we’re going to go in there and get them to give up their nuclear program, their nuclear weapons.
Now, the thing was, Iran didn’t have nuclear weapons because I had put a deal in place that everybody acknowledged kept them from getting nukes.
And I didn’t have to fire a missile to do it. I just had to engage in diplomacy.
— Clash Report (@clashreport) October 24, 2026
سابق امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کی ایرانی دھمکیوں نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، ایران کو آبنائے ہرمز پر ویٹو پاور حاصل ہو گئی ہے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ایران سے متعلق حکمت عملی میں ناکامی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات حکومت کو جواب دہ بنانے اور ٹرمپ انتظامیہ کے غیر دانش مندانہ اقدامات روکنے کا موقع ہیں۔
مشی گن میں امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک امیدوار عبدالاحد السید کی انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے اوباما نے 3 نومبر کے انتخابات کو ”سرکٹ بریکر“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس سرکٹ بریکر کو گرانا ہو گا۔
سابق امریکی صدر نے ٹرمپ پر بدعنوانی اور ذاتی مفادات کے لیے اپنے عہدے سے فائدہ اٹھانے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی صدر کو عوام کے پیسے پر اس طرح کھلے عام ناجائز فائدہ اٹھاتے اور اس قدر کھلے عام اپنے اثر و رسوخ اور عہدے کو استعمال کرتے ہوئے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا۔
اوباما نے مزید کہا کہ اب ریپبلکن جماعت بدعنوان، نااہل یا غیر فعال حکومت کی علامت بنتی دکھائی دیتی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے باراک اوباما کے الزامات اور تنقید پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔



