عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، برینٹ خام تیل کے نرخ 116.72 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 103 ڈالر سے تجاوز کرگئی، ایران جنگ کے پھیلاؤ اور خلیجی خطے میں توانائی کی تنصیبات کو لاحق خطرات نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں سعودی عرب پر حوثی حملے، آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں پر حملے اور ایران پر امریکی حملوں کی دوبارہ شروعات کی خبریں شامل ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی عرب ٹائمز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 3.18 ڈالر، یعنی 2.81 فیصد اضافے کے بعد 116.72 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ کاروباری سیشن کے دوران برینٹ کی قیمت 117.45 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچی، جو تقریباً چھ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا، اس کی قیمت 3.50 ڈالر، یعنی 3.52 فیصد بڑھ کر 103.27 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی تیل کمپنی آرامکو نے حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنے ظہران ہیڈکوارٹرز کو خالی کرنے کا حکم دیا۔ تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافے کا بڑا حصہ ممکنہ سپلائی متاثر ہونے کے خدشات سے بھی جڑا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں ستمبر کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں 9.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ 3.7 فیصد رہا۔ یورو زون میں مہنگائی کی شرح 3.8 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں 18.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
🚨 BRENT JUST HIT $116.72, A SIX MONTH HIGH. THE IRAN WAR IS NOW A TAX ON THE WHOLE WORLD.
Brent closed Friday at $116.72, up about 6% this week. WTI is above $103.
Why now:
→ Houthi attacks on Saudi energy sites. Aramco ordered the evacuation of its Dhahran headquarters
→ Two tanker attacks confirmed near Hormuz this week
→ Traders expect the US to resume strikes on IranOil is still moving through Hormuz, so a big part of this jump is fear. That can change fast in both directions.
What it does to the world:
→ US gasoline rose 9.1% in September alone. US CPI is 3.7%
→ Euro area inflation is 3.8%, with energy up 18.8%
→ The IMF says Asia and Europe are hit the hardest
→ US, German and Japanese 10 year yields are at their highest since 2007, 2009 and 1996
→ The Fed, the ECB, the BoJ and Korea are all tightening, and Canada may hike next weekThe IMF also warns that high oil prices could last into 2027, even if the conflict ends soon.
Higher oil means higher inflation. Higher inflation means higher rates. Higher rates mean pressure on stocks and crypto.
The Fed decides on October 28. If it talks tough on energy prices, the market will notice.
12 years in these markets. This is what I do.
Follow me and turn notifications on.— DeFi_Machine (@DeFi_Machine) October 24, 2026
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایشیا اور یورپ کی معیشتیں تیل کی بلند قیمتوں سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا، جرمنی اور جاپان میں 10 سالہ سرکاری بانڈز کی شرح منافع بالترتیب 2007، 2009 اور 1996 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی بینک شرح سود بلند رکھنے یا مزید بڑھانے پر غور کرسکتے ہیں۔ اس صورتحال سے اسٹاک مارکیٹوں اور کرپٹو کرنسیوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع جلد ختم بھی ہوجائے تو تیل کی بلند قیمتیں 2027 تک برقرار رہ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ سے متعلق آئندہ فیصلے، خلیجی توانائی تنصیبات کی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل عالمی منڈی میں قیمتوں کے مستقبل کا تعین کرنے والے اہم عوامل ہوں گے۔



