اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے سندھ کے ضلع خیرپور میں بترسِم ایسٹ-1 کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع کردی ہے، جس سے ملکی گیس سپلائی میں اضافے اور توانائی کے تحفظ کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
اوجی ڈی سی کے ترجمان کے مطابق بترسِم ایسٹ-1 کنویں سے یومیہ 70 لاکھ مکعب فٹ گیس اور 200 بیرل کنڈینسیٹ حاصل کیا جا رہا ہے۔
کمپنی نے کنویں کو پیداواری نظام سے منسلک کرنے کے لیے ضروری تنصیبات اور پائپ لائن کا کام مکمل کرنے کے بعد پیداوار شروع کی۔
ترجمان نے بتایا کہ کنویں سے حاصل ہونے والی گیس سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے نیٹ ورک میں شامل کردی گئی ہے، جس سے گیس کی فراہمی کے نظام کو مزید تقویت ملے گی۔
کنویں کی پیداوار مستحکم ہونے کے ساتھ گیس کی فراہمی میں مزید اضافے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔
@ogdclofficial has commenced gas and condensate production from its Bitrism East-1 exploratory well located in Khairpur, Sindh, marking significant progress in bringing new hydrocarbon discoveries into production. The well is currently producing 7.0 million standard cubic feet of gas per day and 200 barrels of condensate per day from the Basal Sands. Production is expected to increase gradually as the well’s flow stabilises.
To accelerate production from the discovery, @ogdclofficial used its in-house resources to lay a 28-kilometre, 8-inch-diameter flowline connecting the well to the Sinjhoro Plant for processing. The processed gas is now being supplied to the SSGCL network. OGDC is the operator of the Bitrism Exploration Licence with a 77.5 percent working interest, in a joint venture with GHPL, which holds the remaining 22.5 percent.#OGDC #BitrismEast1 #GasProduction #EnergySecurity #IndigenousEnergy
@zafar_masud— Oil and Gas Development Company Limited – OGDC (@ogdclofficial) October 22, 2026
او جی ڈی سی کے مطابق بترسِم ایسٹ-1 کنویں کو سنجھورو پلانٹ سے منسلک کرنے کے لیے 28 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھائی گئی ہے۔
اس پائپ لائن کے ذریعے کنویں سے حاصل ہونے والی گیس کو پراسیسنگ اور ترسیل کے نظام تک پہنچانے کے بعد ایس ایس جی سی کے نیٹ ورک میں شامل کیا گیا ہے۔
ترجمان او جی ڈی سی کا کہنا ہے کہ بترسِم ایسٹ-1 سے پیداوار کا آغاز ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے، نئی پیداوار سے مقامی گیس وسائل سے استفادے میں اضافہ ہوگا اور توانائی کی فراہمی کے نظام کو سہارا ملے گا۔
کمپنی کے مطابق کنویں سے یومیہ 70 لاکھ مکعب فٹ گیس کی پیداوار کے ساتھ 200 بیرل کنڈینسیٹ بھی حاصل ہو رہا ہے۔
کنڈینسیٹ خام تیل سے مشابہ ایک مائع ہائیڈروکاربن ہے، جو قدرتی گیس کے ذخائر سے حاصل ہوتا ہے اور توانائی کے شعبے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کنویں کی پیداوار مستحکم ہونے کے بعد گیس کی فراہمی میں مزید اضافے کی توقع ہے تاہم پیداوار میں اضافے کی مقدار اور وقت کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
او جی ڈی سی کے مطابق بترسِم ایسٹ-1 منصوبے میں کمپنی کا 77.5 فیصد حصہ ہے جبکہ گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کا حصہ 22.5 فیصد ہے، منصوبے کی تکمیل اور پیداوار کا آغاز مقامی وسائل سے توانائی حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ترجمان کے مطابق گیس کو ایس ایس جی سی کے نیٹ ورک میں شامل کرنے سے اسے صارفین تک پہنچانے کے موجودہ نظام میں استعمال کیا جاسکے گا۔
نئی پیداوار سے ملک میں دستیاب گیس کی مقدار بڑھانے اور توانائی کے شعبے پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر مقامی گیس ذخائر کی تلاش، ترقی اور پیداوار میں اضافہ اہمیت رکھتا ہے، او جی ڈی سی کی جانب سے بترسِم ایسٹ-1 کنویں سے پیداوار کا آغاز اسی سلسلے کی ایک پیش رفت ہے۔



