عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت میں تیز رفتار ترقی کے لیے سالانہ 6.2 سے 6.9 فیصد شرح نمو حاصل کرنے اور بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات تیز کرنے پر زور دے دیا، جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 رہنے کی پیشگوئی کر دی۔
عالمی بینک کی تازہ رپورٹ ”اٹیننگ اسکیپ ویلوسٹی“ کے مطابق پاکستان اگر نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، اداروں کو مضبوط اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مؤثر اصلاحات کرے تو 2050 تک فی کس آمدن تین گنا ہو سکتی ہے اور ملک ویتنام کی موجودہ آمدن کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی حقیقی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال میں 3.2 فیصد تھی۔ محصولات میں اضافے اور اخراجات پر قابو پانے کے باعث جی ڈی پی کے 2.9 فیصد کے برابر بنیادی مالیاتی سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ترسیلات زر میں اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی میں مدد ملی۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام میں بہتری کے باوجود پاکستانیوں کی فی کس حقیقی آمدن میں اضافے کی شرح تقریباً 1.6 فیصد ہے، جو تیز رفتار ترقی کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے مطابق پاکستان نے معاشی استحکام بحال کرنے میں حقیقی پیش رفت کی ہے اور عالمی منڈیوں نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے، تاہم فی کس آمدن میں سست رفتار اضافے کے باعث تیز تر ترقی کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔
View this post on Instagram
رپورٹ میں کاروباری ماحول بہتر بنانے، ٹیکس نظام میں اصلاحات، مالی وسائل تک رسائی آسان بنانے اور معیشت میں ریاست کے کردار کو محدود کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق بجلی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل، قومی ٹیرف پالیسی کے تحت تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری جیسے اقدامات پہلے ہی جاری اصلاحات کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق توانائی کی سبسڈی مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں 0.8 فیصد رہ گئی۔ عالمی بینک نے زور دیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار ترقی کے لیے مربوط منصوبہ بندی اور اصلاحات پر مستقل عمل درآمد ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان کی معیشت سکڑنے کا خدشہ، آئی ایم ایف
دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے اثرات کے باعث مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان کی مجموعی معاشی پیداوار 2026 میں 1.3 فیصد سکڑ سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی علاقائی اقتصادی رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث توانائی کی پیداوار، بحری نقل و حمل، سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تاہم ادارے نے توقع ظاہر کی ہے کہ 2027 میں علاقائی معیشت 6.6 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتی ہے، اگرچہ متاثرہ معیشتوں کی پیداوار جنگ سے پہلے کی متوقع سطح سے کم رہنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک توانائی کی پیداوار اور بحری راستوں میں رکاوٹوں سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ تیل درآمد کرنے والی معیشتوں نے نسبتاً بہتر مزاحمت دکھائی ہے۔
آئی ایم ایف کے بنیادی تخمینے کے مطابق 2027 کے آغاز میں تنازع کی شدت کم ہونے اور اسی سال تجارت معمول پر آنے کی توقع ہے، تاہم عالمی معاشی منظرنامے میں غیر معمولی غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔
ادارے نے خبردار کیا کہ توانائی کی پیداوار اور تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹیں تیل اور دیگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ بلند شرح سود، مہنگائی کے خدشات اور مالیاتی دباؤ بھی عالمی مالیاتی حالات کو مزید سخت کر سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی پائیداری یقینی بنانے، مرکزی بینکوں کی خودمختاری کا تحفظ کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے سمیت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ساختی اصلاحات جاری رکھی جائیں۔


