امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر’دوبارہ حملوں‘ کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ممکن ہے کہ مزید فوجی کارروائی بھی کی جائے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، اخبار نے حملوں سے متعلق امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے آگاہ دیگر افراد کا حوالہ دیا۔
آئیووا میں انتخابی ریلی کے لیے روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ اور کارروائی کا فیصلہ بہت پہلے سابق امریکی صدور کو کر لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور اب بھی مزید کارروائی کا امکان موجود ہے۔
امریکی صدر سے جب ایران کے خلاف جنگ پر’عوامی ردعمل‘ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک لحاظ سے لوگ اس کارروائی کو پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ وہی کر رہے ہیں جو ان کے بقول سابق صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، تاہم ممکن ہے کہ بعض لوگ اس جنگ کو پسند نہ کرتے ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں ابتدا ہی سے معلوم تھا کہ اس کارروائی کی ’ایک قیمت‘ چکانا پڑے گی لیکن امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
اس سے ایک روز قبل بھی امریکی صدر نے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا۔
ٹرمپ کے مطابق، ایران کے معاملے پر جلد ہی کسی نہ کسی صورت میں پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ کافی جلد کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچ سکتا ہے۔
واضح رہے امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر نے سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں کیں جس کے نتیجے میں جون میں دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے تھے، تاہم آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سمیت دیگر معاملات کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوا۔


