وفاقی آئینی عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع اور اداکار و گلوکار علی ظفر کے درمیان جاری قانونی تنازع میں وفاقی حکومت کو نیا جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس کے کے آغا نے میشا شفیع کی جانب سے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت کارروائی کو چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
واضح رہے کہ میشا شفیع کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 20 کے تحت سوشل میڈیا پر مبینہ ہتک عزت کے معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل بیک وقت وفاقی حکومت اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو نئی ہدایات حاصل کر کے اپنا جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور مزید کارروائی ملتوی کر دی۔
میشا شفیع نے پیکا 2016 کی دفعہ 20 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے اور اپنے خلاف درج فوجداری مقدمہ ختم کرنے کی استدعا کی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کی کارروائی قانونی تقاضوں کے برخلاف شروع کی گئی اور اس کے پیچھے بدنیتی کارفرما تھی۔
واضح رہے کہ اس کیس کی سماعت وفاقی آئینی عدالت میں اس لیے ہورہی ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اس نوعیت کے آئینی مقدمات اس عدالت کے دائرہ اختیار میں آگئے ہیں۔
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ قرار دے چکی ہے کہ پیکا ایکٹ کی دفعہ 20 آئین کے آرٹیکل 19 سے متصادم نہیں، جو قانون کے تحت عائد پابندیوں کے تابع آزادی اظہار رائے کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پیکا قانون کی دفعہ 20 کو چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
تنازع کا آغاز 2018 میں ہوا
میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جن کی علی ظفر نے تردید کی اور بعد ازاں میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی شروع کی تھی۔ عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت دعویٰ کے جواب میں میشا شفیع نے بھی 2019 میں علی ظفر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دو ارب روپے کا دعویٰ دائر کیا تھا جسے فروری 2020 میں مسترد کر دیا گیا تھا۔
علی ظفر کی شکایت پر ایف آئی اے نے میشا شفیع اور دیگر افراد کے خلاف پی ای سی اے کی دفعہ 20(1) اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف ہتک عزت پر مبنی مواد پھیلایا گیا۔
میشا شفیع نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپریل 2026 میں لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جس پر عدالت عالیہ نے ماتحت عدالت کے ہرجانے کے فیصلے کو مشروط طور پر معطل کر دیا تھا۔
میشا شفیع نے مقدمے کی ایف آئی آر اور پیکا کی دفعہ 20 کی آئینی حیثیت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ دفعہ آزادی اظہار رائے کے آئینی حق کے منافی ہے اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی ختم کی جانی چاہیے۔
لاہور ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور متعلقہ آئینی مقدمات اس کے دائرہ اختیار میں آنے کے بعد یہ معاملہ نئی عدالت میں زیر سماعت آگیا۔



