وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان کا جھگڑا ن لیگ نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام ”پاکستان ٹونائٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا ایک ساتھ ہونا اچھی بات ہے، تاہم پاکستان کی سلامتی کے معاملے پر کسی کی مقبولیت اہم نہیں اور قومی سلامتی کے معاملات میں مقبولیت کی بنیاد پر کسی کی بات کو اہمیت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج سے متعلق ملک کے دیگر حصوں میں جو پالیسی اختیار کی گئی ہے، وہی پالیسی خیبرپختونخوا میں بھی موجود ہے۔ حکومت کے سخت فیصلوں کو عموماً غیر مقبول سمجھا جاتا ہے۔
’مولانا فضل الرحمان اپنا کھویا ہوا ووٹ بینک واپس چاہتے ہیں‘
حذیفہ رحمان نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی کے سربراہ پی ٹی آئی کی خاموش حمایت کر رہے ہیں اور اپنا کھویا ہوا ووٹ بینک واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے گورنر راج چاہنے کی بات منطقی نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا، جبکہ مولانا کو شکایت ہے کہ ان کے خلاف فارم 47 پی ٹی آئی کو دے دیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان تو یہ بھی کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت انہیں ملنی چاہیے تھی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا جھگڑا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔ اور مولانا کے خلاف دھاندلی پنجاب میں نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ وہی بات کرتے ہیں جس کے خود گواہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کے معاملے پر سیاسی مقبولیت کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔


