جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کی عدالت نے اقرار الحسن کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کردی، جبکہ مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
اقرار الحسن کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 10 اکتوبر 2026 کو مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا۔این سی سی آئی اے کے مطابق اقرار الحسن نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف، جھوٹا اور گمراہ کن مواد نشر کیا۔ مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی مختلف دفعات شامل کی گئیں۔
سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کی ویڈیو میں کوئی ایسی بات نہیں جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہو۔
وکیل صفائی نے کہا کہ اقرار الحسن نے اپنی ویڈیو میں صرف ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن نے عمران خان کے علاج سے متعلق بھی بات کی تھی، جس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے حکم دیا گیا تھا۔
میاں علی اشفاق کے مطابق اقرار الحسن ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور انہوں نے اپنی ویڈیو میں کوئی خود ساختہ بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا اور متعلقہ موبائل فون، آئی پیڈ اور دیگر اشیا پہلے ہی این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں۔
گرفتاری کے طریقہ کار پر وکیل صفائی کے اعتراضات
دورانِ سماعت وکیل میاں علی اشفاق نے اقرار الحسن کی گرفتاری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کو چھ روز گزر چکے ہیں تاہم ایف آئی آر میں گرفتاری کا وقت تک درج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے گواہ این سی سی آئی اے کے تین اہلکار ہیں اور کوئی آزاد گواہ موجود نہیں۔ وکیل صفائی کے مطابق مقدمے کا تفتیشی افسر بھی گرفتاری کے وقت موقع پر موجود نہیں تھا۔
وکیل میاں علی اشفاق نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس گرفتاری کے وقت سے متعلق مواد موجود ہے جو ٹرائل کے دوران پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کا ٹرانزٹ ریمانڈ نہیں لیا گیا۔
وکیل صفائی نے کہا کہ اس مقدمے میں کوئی متاثرہ شخص یا نجی مدعی موجود نہیں جبکہ این سی سی آئی اے کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ادارہ اپنے طور پر بھی کارروائی کرسکتا ہے۔
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران عدالت نے وکیل صفائی سے استفسار کیا کہ ایک طرف ملزم کو مقدمے سے بری یا ڈسچارج کرنے کی استدعا کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب کہا جارہا ہے کہ شواہد بعد میں ٹرائل کے دوران پیش کیے جائیں گے۔
وکیل صفائی نے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا اور تفتیشی ادارے پہلے ہی ان کی متعلقہ اشیا قبضے میں لے چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اقرار الحسن سے تفتیش کے لیے جو سوالات کیے جانے تھے، وہ بھی کیے جاچکے ہیں۔
میاں علی اشفاق نے مزید کہا کہ آج کل سوشل میڈیا پر مواد اپ لوڈ کرنے کے لیے مختلف افراد اور ٹیمیں کام کرتی ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ مواد اقرار الحسن کا ہے اور اسے انہوں نے خود شائع کیا تھا۔
این سی سی آئی اے کا مؤقف
دوسری جانب این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ اپنے طور پر بھی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ سائبر سکیورٹی سے متعلق شکایت پر کارروائی کی گئی ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق اقرار الحسن کا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جبکہ مقدمے میں مزید پانچ افراد کو گرفتار کرنا بھی مطلوب ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش مکمل کی جاسکے۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی، جس کے بعد تفتیشی ادارے کو مزید دو روز تک ملزم سے تفتیش کا موقع مل گیا۔
واضح رہے کہ 13 اکتوبر کو کراچی کی عدالت نے اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ بعدازاں سیشن عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دفاع کی درخواست مسترد کردی۔ 17 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کردی۔



