صوبائی دارالحکومت لاہور میں پاکستان عوام راج تحریک کے رہنما اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن کو ڈی ایچ اے سے مبینہ طور پر حراست لے لیا گیا ۔
اہل خانہ کے مطابق اقرار الحسن کو مبینہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تاہم ادارے کی جانب سے اب تک ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
View this post on Instagram
اقرار الحسن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ اقرار الحسن کو کس وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں این سی سی آئی اے کے تھانے سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن وہاں سے بھی کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
اقرار الحسن کی موجودہ جگہ اور انہیں حراست میں لیے جانے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکیں۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے نے تاحال اقرار الحسن کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ ادارے کے حکام بھی اس معاملے پر مؤقف دینے سے گریزاں ہیں۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ رات کو سو رہے تھے کہ باہر سے زور زور سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ اقرار کو باہر نکالو ورنہ ہم سب توڑ دیں گے، وہ اوپر پھلانگتے ہوئے آئے اور مجھے دھکے دیے ، 2 لوگوں نے اقرار کو پکڑا، انہوں نے موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی اٹھا لئے اور جاتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی لے گئے، ویڈیو بنانے پر مجھ سے بھی فون چھین لئے۔
Farah Iqrar narrates the story how her husband Iqrarul Hassan was arrested.👇 https://t.co/T1TaeeIKkI
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) October 12, 2026
اقرار الحسن کی مبینہ گمشدگی کے بعد ان کی اہلیہ اور دیگر اہل خانہ کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جن میں انہیں ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
The wives of Awaam Raaj Party leader Iqrar ul Hassan seen consoling each other following his reported disappearance. According to his wife Farah Iqrar, unidentified men took her husband away during the night in Lahore https://t.co/5XFHWR91m3
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) October 12, 2026
ٹی وی میزبان وسیم بادامی نے بھی اقرار الحسن کے بارے میں معلومات نہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اقرار الحسن کہاں ہیں۔
اس وقت تک کچھ پتہ نہیں کہ اقرار کہاں پر ہے۔۔
— Waseem Badami (@WaseemBadami) October 12, 2026


