امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سی این ین نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبوں پر کام کررہی ہے جن میں مبینہ طور پر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ’مدر آف آل بمز‘ کا ممکنہ استعمال بھی شامل ہے۔
امریکی ٹی وی چینل نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ’مدر آف آل بمز‘ جوہری ہتھیار نہیں بلکہ ایک انتہائی طاقتور روایتی بم ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے خلاف اس ہتھیار کے ممکنہ استعمال کو جوہری حملے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انٹرویو کے دوران جب امریکی صدر سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر اعتماد کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ سچ پوچھیں تو کسی پر اعتماد نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاست کی دنیا میں وہ کسی پر بھروسا نہیں کرتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ امریکا روس اور چین کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی کے معاملے پر بات چیت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی افسوس ناک ہے اور وہ ممکنہ طور پر ان ہتھیاروں کو ختم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ٹرمپ کے مطابق واشنگٹن اس مقصد کے لیے ماسکو اور بیجنگ دونوں سے مذاکرات کر رہا ہے۔
نیوز میکس نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی جوہری ہتھیاروں میں کمی کے معاملے پر بات کی ہے۔
امریکی صدر نے توقع ظاہر کی کہ چین آئندہ 5 برس کے دوران جوہری ہتھیاروں کی تعداد کے معاملے میں امریکا کے برابر پہنچ سکتا ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ذخیرہ شدہ جوہری وارہیڈز کی تعداد کے لحاظ سے روس پہلے، امریکا دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر ہے جبکہ تعینات جوہری وارہیڈز کی تعداد کے لحاظ سے امریکا روس سے آگے ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رواں سال اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (نیو اسٹارٹ) کی مدت ختم ہو چکی ہے۔
یہ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا اور اس میں ایک مرتبہ 5 سال کی توسیع کی اجازت تھی۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن اور موجودہ روسی صدر ولا دیمیر پیوٹن نے اس توسیع پر اتفاق کیا تھا۔



