امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ چین اور روس ایران کی کسی بھی طرح مدد کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ماسکو اور بیجنگ کے پاس ایران کی مدد کرنے کی صورت میں کھونے کے لیے بہت کچھ ہے اور امریکا کو اس کا فوری علم ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے پیر کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ انہوں نے اپنے ناقدین اور مخالفین کے یہ بیانات دیکھے ہیں کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہو بھی رہا ہے تو اس کا پیمانہ بہت محدود ہوگا لیکن انہیں نہیں لگتا کہ دونوں ممالک ایسا کر رہے ہیں۔

اس سے قبل جولائی میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں اعتماد ہے کہ چین اور روس ایران جنگ میں تہران کی مدد نہیں کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک اس تنازع میں مداخلت کرتے ہیں تو اس کے ان کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان 28 فروری 2026 سے جنگ جاری ہے جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں ان امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی موجود ہیں۔ اس کے بعد سے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ایران جنگ کے معاملے پر ‘غیر جانب دار’ قرار دے چکے ہیں۔
روس اور چین کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا سبب بن سکتی ہے جبکہ بیجنگ نے ایران پر امریکی حملوں کو اس کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
گزشتہ ماہ ٹرمپ نے واشنگٹن کے دورے پر آئے چینی صدر شی جن پنگ کو ایران کی مدد کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ اس وقت چین میں امریکی سفیر کے مطابق، شی جن پنگ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ چین تہران کی مدد نہیں کرے گا۔
یہ انتباہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا تھا کہ چین نے ایران کو کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل فراہم کیے ہیں اور تہران چینی مدد سے اپنے تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں سے بچنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔
ستمبر میں ٹرمپ نے اس رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا تھا کہ ایران نے اردن میں ایک فوجی اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر چینی ذرائع سے حاصل کی تھیں۔ اس اڈے پر جولائی میں ہونے والے حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔


