امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کر رہا ہے اور 3 نومبر کو ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا وہ سب پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کی معاشی اور فوجی صورتحال انتہائی خراب ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور موجودہ صورتحال میں بات چیت کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا کی بحری ناکہ بندی پوری قوت کے ساتھ برقرار رہے گی۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے ریکارڈ تعداد میں تیل کے بیرل گزر رہے ہیں۔
“I want to make it clear to everybody that, while Iran is in very bad condition, both Economically and Militarily… we will not be attacking Iran at any time prior to the Midterm Elections to be held in the United States on November 3rd.” – President Donald J. Trump 🇺🇸 https://t.co/o1kUjMXZWt
— The White House (@WhiteHouse) October 8, 2026
ٹرمپ کے مطابق گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل گزرا، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ اس میں سے ایک بیرل بھی ایران سے نہیں آیا اور نہ ہی ایران کی طرف گیا۔
امریکی صدر کے بیان میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، معاشی دباؤ اور جاری مذاکرات تینوں پہلو نمایاں رہے۔
ٹرمپ نے ایک طرف ایران کے ساتھ بات چیت کو نتیجہ خیز قرار دیا، جبکہ دوسری جانب تہران پر بحری دباؤ برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی معاشی اور فوجی حالت انتہائی خراب ہے، تاہم امریکی حکمت عملی میں فی الحال مذاکرات کے ساتھ دباؤ برقرار رکھنے کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔



