گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کی پولیس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، انہیں جو بھی وسائل درکار ہوں گے وہ دیے جائیں گے، ہماری پولیس فرنٹ لائن پر دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔
خیبرپخونخوا میں گورنر راج نافذ ہونے کے ایک دن بعد پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی ہے اور آج ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی ہوا۔ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اولین ترجیح ہے۔ جبکہ قانون کو ہاتھ میں لینے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق نے ہم پر اعتماد کیا اور ہماری پہلی ترجیح دہشتگردی کے خلاف جنگ ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام جدید ہتھیار فراہم کریں گے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ اور آج وزیر داخلہ نے پولیس کے حوالے 10 اے پی سیز گاڑیاں کی ہیں، یہ اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگلے محاذوں پر کھڑے ہیں اور عوام کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، جبکہ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات کریں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم انتظار کر رہے تھے کہ گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کوئی آئے گا لیکن اب 10 دنوں سے جو سرکس لگا ہوا تھا اسے عوام نے ختم کیا اور نااہل حکومت کو مسترد کر دیا۔ جس کے بعد عوام نے صوبے بھر میں یوم نجات منایا۔ لانگ مارچ کرنے والوں کا کنٹینر لاوارث کھڑا ہوا ہے اور میں انتظار میں ہوں کوئی آکر اس کنٹینر کو لے جائے۔ ورنہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر (ٹی ایم اے) لے جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی عوام نے 13 سال کی مصیبت کو مسترد کیا۔ تاہم اب ہماری پالیسیاں جلال آباد یا قندھار سے نہیں بلکہ اسلام آباد سے آئیں گی اور ہم اس پر مکمل عمل کریں گے۔ جبکہ ڈاکٹر سے بھی کہیں گے کہ وہ اپنی ہڑتال ختم کر دیں آپ کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اور ہم سب صوبے کا مقدمہ وفاق کے ساتھ مل کر لڑیں گے کیونکہ وہ زمانے گئے جب وفاق اور صوبے کے درمیان کوئی رابطے نہیں تھے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کی پولیس کی استعداد اور صلاحیت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پولیس دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑرہی ہے، اسے جو بھی وسائل درکار ہوں گے، دیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ میں نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو کل حکم دیا ہے کہ اب خیبرپختونخوا پولیس کی سب سے کم تنخواہ نہیں ہوگیؕ
انہوں نے کہا کہ ہم پولیس کے شہدا کے خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور ان کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ شہیدوں کے اہل خانہ کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے جبکہ ان کے بچوں کو مفت تعلیم اور شہدا پیکج میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ صوبے میں ترقی، خوشحالی اور امن کے قیام کے نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ترقیاتی کاموں کے ساتھ امن کے قیام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ صحت، تعلیم، انصاف اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بہتری لائیں گے، جبکہ خواتین اور نوجوانوں کو خودمختار بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا وسائل سے مالامال ہے، امن ہوگا تو لوگ کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے صوبے کا رخ کریں گے۔
‘صوبے کا مقدمہ وفاق کے سامنے دلیل کے ساتھ پیش کریں گے’
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے وسائل اور ضروریات کا مقدمہ وفاق کے سامنے دلیل کے ساتھ پیش کریں گے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان باقاعدہ رابطہ کاری ہوگی اور صوبے کو جس چیز کی ضرورت ہوگی، وفاق سے اس کے حصول کے لیے کوشش کی جائے گی۔ جلد وزیراعظم بھی خیبرپختونخوا تشریف لائیں گے اور ان کے سامنے صوبے کے مسائل رکھے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 13 سال کے مسائل اور خرابیاں دور کرنا ہیں، کوشش ہوگی کہ تین ماہ میں عملی اقدامات کے ذریعے فرق دکھایا جائے۔ ہم 24 گھنٹے کام کریں گے اور عوام کو امید دلائیں گے۔ یہ اقدامات ہی ہماری کارکردگی کا جواب ہوں گے۔
‘جو آئین و قانون کو نہیں مانے گا اس کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو گی’
صوبے کی سکیورٹی صورت حال پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس میں تقریباً 17 ہزار اسامیاں خالی ہیں، جبکہ کئی چیک پوسٹیں اور تھانے بھی قائم نہیں ہوسکے۔ پاکستان کی سلامتی سب سے پہلے ہے اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، تاہم اب صوبے سے غیرقانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے گا۔ جو پاکستان کے آئین اور قانون کو نہیں مانے گا اس کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو گی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات ہیں، انہیں قانون کا سامنا کرنا ہو گا، اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق جن افراد کے خلاف مقدمات نہیں ہیں، انہیں رہا کردیا جائے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق کہا کہ وزیر داخلہ نے بتایا ہے کہ وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام نے گزشتہ دنوں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کو مسترد کیا کیونکہ وہ ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کو ترقی یافتہ صوبہ بنائیں گے اور امید ہے کہ بہت جلد موجودہ مشکلات پر قابو پالیں گے۔


