صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومتی سطح پر سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق کردی گئی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گرفتاریاں گزشتہ روز عمل میں لائی گئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر زیر حراست افراد کے خلاف مقدمات ہیں تو ان پر فرد جرم عائد کرکے مقدمات چلائے جائیں گے جبکہ جن کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہوگا انہیں رہا کردیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق عینی شاہدین اور حکام نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی رہائش گاہ اور اس کے اطراف اہم مقامات کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری، نیم فوجی دستے اور شپنگ کنٹینرز تعینات کیے گئے ہیں۔
ہم نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کیا گیا، باڑہ بازار میں پی ٹی آئی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسف زئی نے زیر حراست افراد کو تحویل میں لیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تمام پیش رفت خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق یہ اقدام صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال بگڑنے کے تناظر میں کیا گیا۔
گزشتہ روز وفاقی وزرا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے ارکان کی گرفتاری یا صوبے میں ان کی موجودگی سے متعلق قیاس آرائی کرنے سے گریز کیا تھا۔
محسن نقوی نے کہا تھا کہ کسی بھی فوجداری مقدمے میں مطلوب شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ حفاظتی تحویل میں لیے گئے دیگر افراد کو حالات کے مطابق اجازت ملنے پر رہا کردیا جائے گا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج اسلام آباد میں خیبرپختونخوا سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کے دوران صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سیاسی نہیں، دہشت گردی کے خلاف صوبے کی طویل جدوجہد اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے پاس ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔
خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع وفاق کے حوالے
گزشتہ روز صوبے میں نافذ کردہ ایمرجنسی کے تحت صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے جبکہ صوبے کے معاملات کی نگرانی کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی گئی۔
ان اقدامات کے تحت 12 اضلاع کو گورنر کی نگرانی میں وفاقی انتظامی بندوبست کے تحت لایا گیا ہے۔ ان اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، اپر جنوبی وزیرستان، لوئر جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔
وفاقی حکومت نے ان اضلاع میں انتظامی امور، سکیورٹی اور ترقیاتی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا ہے جبکہ مشاورتی کونسل صوبائی معاملات چلانے میں گورنر کی معاونت کرے گی۔
حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد امن و امان کی بحالی اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی معاونت اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی بھی اجازت دی ہے۔



