اسلام آباد: وفاقی وزرا نے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس صوبے کا نظام چلانے کے لیے 11 رکنی کونسل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن ہمارے لیے آسان نہیں تھا، صوبے میں آئینی طریقہ کار کے تحت ایمرجنسی لگائی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور سابق صوبائی رکن اسمبلی ثمر بلور پریس کانفرنس میں شریک تھے۔
محسن نقوی نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے آسان نہیں تھا، ہم ایک مہینے سے زیادہ کوشش کرتے رہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو آن بورڈ لے سکیں، میں ذاتی طور پر بیک گراؤنڈ میں رابطے میں تھا۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سے پہلے پی ٹی آئی کے تمام مطالبات پورے کردیے تھے، ان کے اپنے لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کیوں لانگ مارچ کررہے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے کمیٹی بنا کرمطالبات پر بات چیت کا فیصلہ کیا تھا، ہماری پوری کوشش تھی وزیر اعظم کے ستمبر میں بیرون ملک جانے سے پہلے اس معاملے کو حل کریں،ہم نے ہمیشہ یہ بات کی کہ دھرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں آپ دہشت گردی کے مسئلے پر تعاون کریں، بات چیت میں ہمیشہ وزیر اعظم اور میں نے پہل کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالات آپ سب کے سامنے ہیں، خیبر پختونخوا کے 12اضلاع کی صورتحال انتہائی خراب ہے، ہر روز خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی شہادتیں ہورہی ہیں ۔
محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات میں پہلے دن جو بات ہوئی اگلے دن وہ تبدیل تھی، اسد قیصر نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ہم متفق ہیں، میں نے کہا کہ آپ خیبرپختونخوا حکومت سے بھی بات چیت کرلیں، اگلے دن تین بار ڈرافٹ بنا فائنل چیزیں طے ہوئیں،آخری لمحے پر پی ٹی آئی والے پیچھے ہٹ گئے،رات کو پونے بارہ بجے تک پی ٹی آئی کے ساتھ رابطے میں تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر مذاکرات میں اتفاق ہوا تھا، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں زندگی معمول پر لانا ضروری ہے،وفاقی اور صوبائی حکومت کی خارجہ پالیسی الگ الگ نہیں ہو سکتی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات ضروری تھے ،متاثرہ اضلاع میں پولیس کو عملی طور پر سہولیات فراہم کرنا تھیں لیکن نہ کیا گیا۔
سکیورٹی خطرات کے باعث آئینی اقدام اٹھایا، وزیر قانون
فیصلے کی آئینی بنیادوں کی وضاحت کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین میں ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے طریقۂ کار موجود ہے جب اندرونی بدامنی یا بیرونی جارحیت کے باعث قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، یا کسی صوبائی حکومت کے لیے آئین کے مطابق کام کرنا ممکن نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 149(4) وفاقی حکومت کو امن و امان اور پاکستان کی سلامتی سے متعلق معاملات پر صوبوں کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 232 مخصوص حالات میں پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت اس وقت کارروائی کی جا سکتی ہے جب کسی صوبے کا آئینی نظام آئین کے مطابق کام کرنے کے قابل نہ رہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد پر سکیورٹی کی صورتِ حال اور خیبر پختونخوا میں اندرونی خطرات نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے جن میں آئین کی ان شقوں کا استعمال ضروری ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سے پہلے بھی پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس وقت حکومت کا مؤقف تھا کہ صدر کے آئینی اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ صرف اسی وقت کیا جائے گا جب اس کے جواز کے لیے کافی شواہد اور متعلقہ مواد دستیاب ہوں گے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وفاقی حکومت نے اب دستیاب رپورٹس اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دونوں آئینی شقوں کے نفاذ کے لیے ضروری شرائط پوری ہو چکی ہیں۔
انہوں نے صورتِ حال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی لیے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 دونوں کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
11 رکنی مشاورتی کونسل اور ضلعی سیکریٹریٹ
وزیر قانون نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اعلان کردہ انتظامی اقدامات کے تحت، عبوری مدت میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس کونسل کا مقصد ایسے افراد کو یکجا کرنا ہے جو عبوری انتظام کے دوران طرزِ حکمرانی بہتر بنانے اور صوبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے کام کر سکیں۔
ان کے مطابق 12 ایسے اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے جہاں سکیورٹی کی صورتِ حال خاصی سنگین ہے۔ یہ سیکریٹریٹ گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت کام کرے گا اور نامزد اضلاع کے انتظامی امور کی براہِ راست نگرانی کرے گا، جبکہ زمینی صورتِ حال سے وفاقی حکومت کو بھی آگاہ رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں تعمیرِ نو اور ترقیاتی امور سے متعلق معاملات کی نگرانی کے لیے ایریا ری کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کام کرے گی۔ مجوزہ انتظام کے تحت ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے عہدے کا ایک افسر منتظم کی ذمہ داریاں انجام دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان 12 اضلاع کے ناموں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے اور ان کے انتظامی معاملات گورنر اور وفاقی حکومت کے اشتراک سے قائم کیے گئے نئے نظام کے تحت چلائے جائیں گے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ان انتظامات کا مقصد اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا، سکیورٹی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنا اور شورش سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی اور انتظامی سرگرمیاں جاری رکھنا ہے۔
مشاورتی کونسل کے ارکان و محکموں کی تفصیلات
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی امور چلانے میں گورنر کی معاونت کے لیے قائم 11 رکنی مشاورتی کونسل کے ارکان کے محکموں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کونسل کے ارکان کو تجربہ کار پیشہ ور افراد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کونسل میں سابق سرکاری افسران، قانونی ماہرین، ماہرینِ تعلیم، سرکاری شعبے کے تجربہ کار افراد اور سیاسی نمائندے شامل ہیں، جو عبوری انتظام کے دوران اہم انتظامی شعبوں کی نگرانی کریں گے۔
کونسل میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کو صحت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین طارق محمود پاشا کو خزانہ اور رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کو اطلاعات و نشریات کا قلم دان دیا گیا ہے۔
کونسل کے دیگر ارکان میں کفایت اللہ خان برائے داخلہ امور، عامر جاوید برائے قانون، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ برائے تعلیم، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ برائے معدنیات، ڈاکٹر محمد ارشد برائے صنعت و تجارت، آصف رفیق آفریدی برائے مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ، طیب قریشی برائے مذہبی امور اور عثمان سیف اللہ خان برائے توانائی شامل ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کونسل گورنر کے ماتحت کام کرے گی اور اس کے ارکان اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے طرزِ حکمرانی اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ یہ انتظام اس عرصے کے لیے ہوگا جس کے دوران صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات معطل رہیں گے۔
یہ اعلان وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے لیے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے میں صوبائی انتظامیہ کی ناکامی کو جواز بنایا ہے۔ صوبے میں حکومت کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔



