وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے اقدام کو غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام دہشت گردی کی اس لعنت کے خلاف ہے جس کا سامنا اس صوبے کو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے کرنا پڑ رہا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں، ٹی ٹی پی، سرحد پار خطرات اور علاقائی سلامتی پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا، دھرنوں اوراحتجاج کے باعث معیشت کوشدید نقصان پہنچا ہے۔
View this post on Instagram
اسحاق ڈار نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والی پیش رفت کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے عوام کی سلامتی اور معیشت کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور امن کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتائج آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں سامنے آئیں گے۔
’افغان حکام اپنے وعدے پورے کریں‘
نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران افغان طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے وعدے پورے کریں اور افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس، قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ میں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور القاعدہ کے ساتھ اس کے قریبی روابط کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کا آغاز سرحد پار سے کیا جاتا ہے، جبکہ دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں اپنے ٹھکانوں کی طرف واپس چلے جاتے ہیں۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 addressed the ISSI International Conference on “Pakistan’s Evolving Counterterrorism Landscape: TTP, Cross-Border Threats and Regional Security” in Islamabad today.
The DPM/FM reaffirmed Pakistan’s resolve to combat terrorism in all its forms and manifestations. He recalled Pakistan’s immense sacrifices and called for stronger international cooperation against this menace.
He called on the Afghan authorities to take concrete, verifiable and irreversible action against the TTP and other terrorist groups and ensure that Afghan soil is not used for terrorism against Pakistan or any other country.
The DPM/FM highlighted Indian sponsorship of terrorist groups operating against Pakistan, including from Afghan soil. He stressed that such support poses a serious threat to regional peace, stability and security.
He noted Pakistan’s efforts to combat terrorism through implementation of the National Action Plan, Azm-e-Istehkam and improved intelligence coordination. He also outlined Pakistan’s diplomatic efforts to advance bilateral and multilateral counterterrorism cooperation.
He lauded Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif’s leadership in this fight and paid tribute to the armed forces under Field Marshal Syed Asim Munir and law enforcement agencies for their courage and sacrifices.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 12, 2026
اسحاق ڈار نے اپنے دورہ کابل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپریل 2025 میں افغان حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت اور دیگر امور پر پیش رفت ہوئی۔ پاکستان نے افغانستان کے مطالبات پر عمل درآمد کیا لیکن اس نے بدلے میں صرف یہ مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکلات کے باوجود افغانستان کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں دہشت گرد حملوں کے بعد سرحدی بندش کے باوجود پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان کے ایک ہزار کنٹینرز کو افغانستان جانے کی اجازت دی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کوشہید کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
’دہشت گرد اے آئی سے بھی فائدہ اٹھانے لگے ہیں‘
نائب وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گرد سوشل میڈیا، خفیہ آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع کے ذریعے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے اور اپنے نیٹ ورکس کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گرد ڈرونز اور مصنوعی ذہانت سے بھی فائدہ اٹھانے لگے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کو حقِ خودارادیت کے لیے جائز جدوجہد دبانے کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، خصوصاً فلسطین اور جموں و کشمیر کے معاملات میں۔
‘پی ٹی آئی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کچھ نہیں کیا، عطا تارڑ
قبل ازیں وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑا جاسکتا تھا اس لیے ایمرجنسی لگی، 13 سالوں میں پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کو قابو نہ کرسکی، لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے مگرصوبائی حکومت غافل رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں پانی سرسے گزرگیا تو یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا، ایمرجنسی اورگورنرراج خیبرپختونخوا کےلوگوں کےتحفظ کیلئے لگائی گئی۔
وفاقی وزیراطلاعات نے سوالات اٹھائے کہ این ایف سی کی مد میں خیبرپختونخوا حکومت کو فنڈ دیا گیا وہ کہاں خرچ ہوا؟ صوبے میں سی ٹی ڈی کومتحرک کیوں نہیں کیا گیا؟ کئی اضلاع میں سیف سٹی کیمرے کیوں نہیں نصب کیے گئے؟
عطاتارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کوجدید اسلحہ فراہم نہیں کیا گیا، صوبائی معاملات نظر اندازکیے گئے، عوام کے جان ومال کا تحفظ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے رہے کہ عمران خان سے ملاقات بھی ہوجائے گی مگردہشت گردی کیخلاف کیا حکمت عملی ہے؟ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے گریزاں رہی، خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کوفری ہنڈ نہیں دیا جا سکتا۔
View this post on Instagram
امریکا ایران جنگ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا کردار دنیا کےسامنے ہے، وزیراعظم شہبازشریف نے قیام امن کیلئے بہترین کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے افغانستان کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہر قسم کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،افغان حکومت اپنی زمین سے دہشت گردی روکے، دہشت گردی کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہورہی ہے، ہم نے عالمی فورمزپرافغانستان سے دہشت گردی کیخلاف آوازاٹھائی ہے، پاکستان پرامن، مستحکم اورخوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں، وہاں ٹی ٹی پی کے 6 ہزارسے زائد دہشت گرد پناہ لیے ہوئے ہیں، پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہرقدم اٹھائے گا۔


