خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے 2 الگ الگ واقعات میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے جبکہ ٹانک میں فورسز نے ٹی ٹی پی بھٹنی گروپ کے 3 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔
جمرود میں اہلکاروں پر فائرنگ آج ہی کے دن خیبر پختونخوا پولیس کے خلاف دہشتگردوں کا تیسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل نوشہرہ کے تھانہ نظام پور کے ایس ایچ او کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کوہاٹ نے ان کے تھانے کے 3 اہلکار اغوا کر لیے تھے۔
جمرود میں پہلا واقعہ جلال دین کے علاقے میں پیش آیا جہاں خیبر پولیس کے اہلکار کامران اپنے گھر علاقہ جلال دین سے ڈیوٹی کے لئے جارہے تھے کہ راستے میں نامعلوم دہشتگردوں نے اس پر فائرنگ کرکے شہید کردیا۔
ڈی پی او خیبر وقار احمد کے مطابق پولیس اہلکار کامران خیبر پولیس لائن شاہ کس ڈی پی او دفتر میں کمپلین سیل میں کمپیوٹر آپریٹر تھا اور آج صبح وہ معمول کے مطابق گھر سے ڈیوٹی کے لئے نکل دفتر آرہا تھا کہ راستے میں دہشتگردوں نے انکو فائرنگ کا نشانہ بناکر شہید کردیا۔
شہید پولیس اہلکار کامران کی لاش کو واقعے کے بعد جمرود اسپتال پوسٹ مارٹم کے لئے منتقل کیا جس کے بعد انکی لاش ورثاء کے حوالے کی گئی۔
شہید پولیس اہلکار کامران کی نماز جنازہ ضلع خیبر جمرود شاہ کس لیوی سنٹر میں ادا کردی گئی جس میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید ،ڈی پی او خیبر وقار احمد، سیکیورٹی فورسز افسران،اسسٹنٹ کمشنر جمرود سمیت پولیس فورس کے افسران و جوانوں سمیت اہل علاقہ شریک ہوئے۔
اس موقع پر سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے لواحقین سے تعزیت کی اور کہاکہ ہمارے نوجوانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔آخری دہشتگر و جرائم پیشہ افراد کے خاتمے تک ہماری جدوجہد و انکے خلاف جنگ جاری رہے گی ،واقعہ میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
دوسرا واقعہ جمرود کے علاقے غنڈی سخی پل میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چارسدہ سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار بہادر شاہ شہید ہوگئے ۔
اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد خیبر پولیس نے جاں بحق اہلکار کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فائرنگ میں ملوث نامعلوم افراد کے حوالے سے معلومات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
ادھرسی ٹی ڈی کے مطابق ضلع ٹانک میں تھانہ ایس ایم اے کی حدود گڑہ فقیرا میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جن میں سے 2 کی شناخت اسامہ اور سلیمان کے ناموں سے ہوئی جبکہ تیسرے کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران 3 کلاشنکوفیں، 11 میگزین بمعہ گولہ بارود اور موبائل فون برآمد ہوئے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے جوانوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
واضح رہے حالیہ عرصے میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ فتنہ الخوارج کی جانب سے کے پی پولیس کے خلاف حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔
16 ستمبر کو ضلع کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شہید جبکہ 103 افراد زخمی ہوئے۔ 2 دن پہلے یعنی اکتوبر 7 کواسی ضلع میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوئے۔
اسی طرح 28 ستمبر کو ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہوئے۔ اس سے قبل ستمبر 26 کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خود کش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہوئے۔


