خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شہید جبکہ 103 افراد زخمی ہوگئے۔
کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکے کے بعد دہشت گرد حملے کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی گئی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق کوہاٹ کے ہنگو روڈ پر واقع پولیس لائنز کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران تقریباً ایک بج کر 20 منٹ پر دھماکا ہوا، جس کے بعد دہشت گرد حملہ بھی کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے میں مجموعی طور پر 21 افراد شہید ہوئے، جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں۔
شہری شہداء میں ڈاکٹر اسرار خان اورکزئی بھی شامل ہیں جو چیف ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ (پیڈیاٹرکس) تھے جبکہ دیگر شہداء میں لیاقت میموریل اسپتال کوہاٹ سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 103 افراد زخمی ہوئے، جن میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل ہیں، زخمیوں میں سے 13 افراد لیاقت میموریل اسپتال جبکہ 90 افراد ڈی ایچ کیو اسپتال کوہاٹ لائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 34 زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا جبکہ 5 مریضوں کا لیپروٹومی آپریشن کیا گیا، آپریشن مرحلے سے گزرنے والے مریضوں میں سے 4 کو مزید علاج کے لیے پشاور کے بڑے طبی مراکز منتقل کردیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے اور زخمیوں کو متعلقہ طبی مراکز میں ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واقعے میں 5 سے 7 دہشت گرد ملوث ہیں۔
سینٹرل پولیس آفس سے جاری بیان کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی، جن کا پولیس اور سی ٹی ڈی نے بھرپور مقابلہ کیا۔
میڈیا پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متعدد شہری ایک عمارت کے قریب جمع ہیں، جس کی ایک دیوار منہدم ہو چکی ہے۔ لوگ ملبہ ہٹا کر زخمیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق 14 ایمبولینسز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، پولیس کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے کر کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
ہم نیوز کے نمائندے کے مطابق پولیس لائن میں یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے ہیں۔
کوہاٹ دھ م اکہ ، دل خر اش مناظر#humnews pic.twitter.com/DAtMMkLiEM
— HUM News (@humnewspakistan) September 18, 2026
کوہاٹ دھماکے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا
پولیس لائنز میں دھماکے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ پولیس لائنز کوہاٹ میں ادا کردی گئی۔آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور دیگر اعلیٰ حکام نے شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہدا کو سلامی پیش کی، جبکہ پولیس، افواج پاکستان اور سول افسران نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہدا کے جسد خاکی آبائی علاقوں کی جانب روانہ کردیئے گئے۔اس موقع پر آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ شہدا کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا، دہشتگردوں پر خیبرپختونخوا کی سرزمین تنگ کردیں گے۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشتگردوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو بھی جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا اظہار مذمت
دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوہاٹ کے پرانا پولیس لائنزمسجد میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم نے دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے، صدر آصف زرداری
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کے قریب دھماکے پر اظہارِ افسوس کیا ہے ۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اورزخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی کا اظہار افسوس
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کے قریب دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ دکھ کی گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں ،خوارجیوں کی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔
قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے، واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، اسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مزید ہدایت کی کہ شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔
علازہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے کوہاٹ میں بم دھماکے کی شدید مذمت کی گئی ہے، انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، گورنر خیبرپختونخوا
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ اقدامات قوم کے عزم اور حوصلے کو متزلزل نہیں کرسکتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
واضح رہے کہ رواں برس 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں نمازِ جمعہ کے دوران کم از کم 31 افراد شہید اور 169 زخمی ہوئے تھے۔
داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ایک جنگجو نے اجتماع کے اندر بارودی جیکٹ دھماکے سے اڑا دی۔ پولیس ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ حملہ آور نے دھماکا کرنے سے پہلے مسجد کے دروازے پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں سے بچ نکلنے کی کوشش کی تھی۔



